سنسنی خیز مقابلے میں لاہور قلندرز کو شکست

پی ایس ایل 5 کے لیگ میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز کو ایک وکٹ سے شکست دیدی، محمد موسیٰ نے اختتامی اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کرکے مخالف ٹیم سے یقینی شکست چھین لی۔

پاکستان سپر لیگ 5 کے 7ویں میچ میں لاہور قلندرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کیلئے 183 رنز کا ہدف دیا تھا، شاداب الیون نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 9 وکٹوں کے نقصان پر ایک گیند قبل ہدف پورا کرکے کامیابی حاصل کرلی۔

ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے اوپنرز محض 5 رنز پر پویلین لوٹ گئے تھے، کولن منرو 2 اور لیوک رونکی 1 رن بنا کر آؤٹ ہوئے، شاداب خان نے شاندار اننگز کھیلی، وہ 29 گیندوں پر 4 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں 18ویں اوور کی پہلی گیند پر شاہین شاہ آفریدی نے عماد بٹ کو آؤٹ کیا تو شاداب الیون کو جیت کیلئے 17 گیندوں پر 20 رنز درکار تھے اور ان کی صرف ایک وکٹ باقی تھی۔

اس موقع پر محمد موسیٰ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 11 گیندوں پر 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 17 رنز بنا کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرادیا، احمد صفی عبداللہ 8 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو شکست دیدیاسلام آباد کی جانب سے ڈیوڈ ملان 22، کولن انگرام 3 چھکوں کی مدد سے 30، آصف علی 18، حسین طلعت 5، فہیم اشرف 11 اور عماد بٹ 8 رنز بناسکے۔

لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی نے 4 اوورز میں 18 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، حارث رؤف نے 2، حفیظ، ویزے اور پٹیل نے ایک ایک شکار کیا، عثمان خان شنواری نے سب سے زیادہ 46 رنز دیئے۔

مزید جانیے : کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کیخلاف بال ٹیمپرنگ کی شکایت کردیپی ایس ایل 5 میں اب تک کے میچز کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 4، 4 پوائنٹس کے ساتھ ٹاپ پوزیشن پر ہیں، پشاور، ملتان اور کراچی کے 2، 2 پوائنٹس ہیں جبکہ لاہور قلندرز اپنے دونوں میچز ہارنے کے بعد آخری پوزیشن پر ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.