ڈیرہ بگٹی:پولیو ٹیم پہلی بار دور دراز علاقوں میں پہنچ گئیں

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈیرہ بگٹی نے ہفتہ کے روز مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا، جہاں ڈیرہ بگٹی کے دوردراز علاقوں میں پہنچ کر انسداد پولیو ورکرز نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے سنگلاخ پہاڑ پولیو ورکرز کا عزم اور حوصلہ کم نہ کرسکے۔ انسدد پولیو ٹیموں نے پہلی بار دور دراز پہاڑی علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔

صوبائی محکمہ صحت کے افسران کے مطابق اس سے قبل کبھی کوئی ٹیم ان علاقوں میں پہنچ نہیں سکی تھی۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دشوار گزار راستوں کی وجہ سے انہیں 12-12 کلو میٹر پیدل بھی چل کر جانا پڑا اور پولیو ٹیمز کے ساتھ سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

علاقہ مکینوں کی جانب سے دشوار گزار اور کٹھن راستوں پر جانفشانی سے کام کرنے پر محکمہ صحت کی ٹیم اور سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

دوسری جانب پولیو ورکرز نے آزاد جموں و کشمیر کے ضلع وادی نیلم میں بھی عزم و ہمت کی مثال قائم کردی۔ پولیو ٹیموں نے برف پوش پہاڑوں میں بھی کامیابی سے اپنا مشن مکمل کیا۔

پولیو ورکرز چار سے پانچ فٹ برف میں پیدل چل کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے پہنچے۔ میرپور آزاد کشمیر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 64 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

واضح رہے کہ رواں سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم 30 نومبر سے 4 دسمبر تک جاری رہی۔ اس موقع پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 25 لاکھ بچوں کی پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

این ای او سی فار پولیو کے سربراہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ تمام مکاتب فکر انسداد پولیو مہم کی کامیابی میں کردار ادا کریں۔ رواں برس پولیو کے 81 کیسز رپورٹ ہوئے، جس میں سے بلوچستان کے 23 کیسز شامل تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2017 اور 2018 کے مقابلے میں سال 2019 میں پولیو کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس سے قبل کرونا وائرس کے باعث رواں سال 20 جولائی سے ملک کے مختلف اضلاع میں 4 ماہ کے تعطل کے بعد انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا تھا، جس میں مخصوص یونین کونسلز میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

پولیو کیا ہے ؟خیال رہے کہ پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

ہر مرتبہ جب ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو وائرس سے اس کی حفاظت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بار بار حفاظتی ٹیکوں نے لاکھوں بچوں کو پولیو سے محفوظ کردیا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہوچکے ہیں۔

تاہم دنیا میں صرف 2 ممالک پاکستان اور افغانستان ایسے ہیں جہاں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ جس کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو سے متعلق سفری پابندیاں پاکستان پر برقرار ہیں جس کی وجہ سے 2014 سے ہر شخص کے لیے بیرون ملک سفر کے لیے پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

77