اداکار وہاج علی کا دل نااُمید تو نہیں

ڈرامہ گھسی پٹی محبت میں اپنی کارکردگی سے مداحوں کے دل جیتنے والے وہاج علی ایک بار پھر اسکرین پر اپنی جگہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

ڈرامہ دل ناامید تو نہیں سماج سے متعلق ایک ڈرامہ ہے، جس میں انسانی اسمگلنگ اور بچوں سے بدسلوکی سمیت متعدد مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں وہاج علی نے جمشید کا کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک بہت حساس لڑکا ہے اورحالات و واقعات کا شکار ہوکراپنے پیاروں اور خود سے دور ہوتا جاتا ہے۔ جبکہ بکھرے موتی اور گھسی پٹی محبت میں ان کا کردار انتہائی مختلف ہے، ان ڈراموں میں وہ جذباتی اور مسائل پر مبنی معاشرے کے ایک فعال کردار کے طور پر دکھائی دیں گے۔

دوسری جانب”فطور”ایک محبت کی کہانی ہے، جو کہ نئی محبت پر مبنی ہے، اور ماضی کی یادوں کے ساتھ جاری ہے۔

وہاج علی کا اپنے پراجیکٹس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں بطور اداکارہ ان کہانیوں کا حصہ بننے پر یقین رکھتا ہوں جو فرق پیدا کریں، “دل ناامید تو نہیں “یقینا بالکل اسی طرح کی ایک کہانی ہے، میرے خیال میں ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم سب سچ کے ساتھ کھڑیں ہوں اور اس طرح کے مسائل کو منظر عام پر لائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “فطور”ایک خوابوں کی کہانی ہے، جس میں بہت سے تجربہ کار اور باصلاحیت کاسٹ موجود ہے، اور میرے خیال میں ناظرین کو یہ دونوں ڈرامے ضرور دیکھنے چاہیے تاکہ وہ پوری طرح لطف اندوز ہوں اور بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملے۔

دل ناامید تو نہیں، کشف فاونڈیشن کے اشتراک سے تیار کیا گیا ڈرامہ ہے، جس کی ہدایات کاشف نثار نے دیں ہیں اور کہانی آمنہ مفتی نے تحریر کی ہے، جس کی کاسٹ میں یمنہ زیدی، نعمان اعجاز، یاسرا رضوی، سمیہ ممتاز، عمیر رانا، نادیہ افگن، نوید شہزاد اور نور الحسن شامل ہیں۔

ڈرامہ فطور کی ہدایات علی فیضان نے دیں ہیں اور اس کی کہانی زنجبیل عاصم نے تحریر کی ہے، ڈرامہ کی کاسٹ میں فیصل قریشی، حبا بخاری، اور کرن حق موجود ہیں۔

ٹی وی ون کا “دل ناامید تو نہیں ” 18جنوری سے پی ٹی وی ہوم اور پی ٹی وی ون سے نشر کیا جائے گا، جبکہ سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کا ” فطور” 14جنوری کو جیو انٹرٹینمنٹ سے نشر ہوگا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

45