شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا یوٹیوب چینل، شاہی جوڑا کیا سامنے لائے گا؟

ویب ڈیسک — برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا ہے۔ اس چینل کے ذریعے وہ مداحوں کو اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

’ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج‘ کے نام سے بنائے گئے چینل پر ’ویلکم ٹو آر یوٹیوب چینل‘ کے نام سے پہلی ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں جوڑے کو خوش گوار ماحول میں دیکھا جا سکتا ہے۔

پچیس سیکنڈز کی اس ویڈیو میں شاہی جوڑے کے خیراتی کاموں اور خیر سگالی کے دوروں کے دوران بنائی گئی ویڈیوز شامل ہیں جس میں ان کے دورہٴ پاکستان کے دوران شلوار قمیض میں ملبوس تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔

مداحوں نے شاہی جوڑے کے یوٹیوب چینل پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ویڈیو کو اب تک دو ملین سے زائد دفعہ دیکھا جا چکا ہے۔

شاہی جوڑے کا ’ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج‘ کے نام سے پہلے ہی انسٹاگرام اکاؤنٹ موجود ہے جس پر وہ اکثر اپنی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ یوٹیوب کی ویڈیو کو انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ’بیٹر لیٹ دین نیور‘ کے نام سے شیئر کیا گیا ہے۔

38 برس کے ولیم اور 39 برس کی کیٹ نے حال ہی میں اپنی ذاتی زندگی کے کچھ لمحے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیے ہیں۔

اپنی شادی کی 10ویں سالگرہ پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں انہیں اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دکھایا گیا جس میں انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

شاہی امور کی پر نظر رکھنے والی کیٹ نیکول نے تجزیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاہی جوڑے کا یوٹیوب چینل اس لیے اہم ہے کیوں کہ وہ سوشل میڈیا پر آنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق الیکٹرانک میڈیا شاہی مصروفیات کی کوریج کے لیے شاہی خاندان کی جانب سے جاری کی گئی معلومات پر انحصار کرتا ہے۔ لہٰذا یہ اہم ہے کہ اس موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پر آنے کا فیصلہ کیا۔

نیکول کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران شاہی خاندان نے مختلف انداز میں کام کیا۔

یوٹیوب چینل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب ویڈیوز پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔

شاہی جوڑے کے سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عوام کی رسائی میں ہیں۔ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اسے فوری طور پر میڈیا پر دکھانے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

164