اشتہارمیں ہم جنس پرست خواتین دکھانے پربھارت میں تنازع

image

بھارتی کمپنی ڈابرنے بلیچ کریم کے نئےاشتہارمیں ہم جنس پرست خواتین کو دکھانے پرشدید تنقید اوردھمکیاں ملنے کے بعد معافی نامہ جاری کردیا۔

مذہبی تہوار’کرواچوتھ’ کی تھیم پربنائے جانے والے اس اشتہارکوسوشل میڈیا سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

ڈابرانتظامیہ نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے لکھا، ‘ فیم کرواچوتھ کمپین تمام سوشل میڈیا سے ہٹا لی گئی ہے، ہم غیرارادی طور پرعوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے معذرت خواہ ہیں۔”

ویڈیو میں 2 نوجوان لڑکیاں جوش وخروش سے کروا چوتھ کی تیاری کرتے دکھائی گئی ہیں جن کی آپس میں کی جانے والی گفتگو سے لگتا ہے کہ دونوں نے اپنے شوہرکیلئے روزہ رکھا ہے لیکن اختتام پرعلم ہوتا ہے کہ ان کا اشارہ اپنی ہی جانب تھا۔

چھلنی میں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کرروزہ کھولنے کی اس رسم میں ساس بھی موجود ہیں جو ان کے رشتے کی حمایت کررہی ہیں۔

یہ اشتہارڈابرکی جانب سے 22 اکتوبرکوریلیزکیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پراس حوالے سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، بیشتر افراد نے برانڈ پر مذہبی تہواروں کا مذاق اڑانے ‘ اور ‘ہندوثقافت تباہ کرنے’ کا الزام عائد کیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ویڈیو نہ ہٹانے کی صورت میں ڈابر کمپنی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس حوالے سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں نروتم مشرا کا کہنا تھا، ‘آج وہ دو خواتین کو کروا چوتھ مناتے ہوئے دکھا رہے ہیں۔ کل ایک ایسا اشتہارلےآئیں گے جس میں دکھایاجائے گا کہ دو مردوں کی شادی ہو رہی ہے۔ ہم کسی کو بھی اس طرح کا قابل اعتراض مواد دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتے’۔

اس سے قبل ‘فیب انڈیا’ کی دیوالی کلیکشن کا نام ‘جشن رواج’ رکھنے پربھی انتہا پسندوں نے اردونام کو بنیاد بناتے ہوئےکمپنی پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے اشتہار ہٹاتے ہوئے وضاحت پیش کی تھی کہ یہ اشتہار دیوالی کے لیے ریلیزنہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد عام ہندوستانی روایات دکھانا تھا اور ’جشن رواج‘ کا مطلب بھی روایتوں کی تشہیر ہے۔

گزشتہ ماہ عالیہ بھٹ نے عروسی ملبوسات کی برانڈ مانیاورکے ‘ موہے فیشن ‘ کیلئے ایک اشتہارشوٹ کروایا جس میں ہندومذہب میں شادیوں کے حوالے سے قدیم اوراہم ترین سمجھی جانے والی رسم ‘ کنیادان’ کی حیثیت پرسوال اٹھائے گئے تھے۔

اکتوبر2020 میں زیورات بنانے والی بھارتی کمپنی تنشق نے اپنے اشتہارمیں ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھاتے ہوئے مثبت پیغام دیا تھا، تاہم شدید تنقید اور سوشل میڈیا پرمذہبی منافرت چھڑجانے کے بعد اسے بھی اشتہار ہٹانا پڑا تھا۔

So Hindutva bigots have called for a boycott of ⁦@TanishqJewelry⁩ for highlighting Hindu-Muslim unity through this beautiful ad. If Hindu-Muslim “ekatvam” irks them so much, why don’t they boycott the longest surviving symbol of Hindu-Muslim unity in the world — India? pic.twitter.com/cV0LpWzjda

— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) October 13, 2020تنشق جیولرز بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں سے ایک ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.