اپنی موت کا ڈرامہ کرنے والا امریکہ سے مفرور شخص گلاسگو سے گرفتار

نکولاس روسی کو گلاسگو کے کوئین الزبتھ یونیورسٹی ہسپتال کے محکمہ انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) سے تلاس کر لیا گیا تھا جہاں وہ وینٹیلیٹر پر تھے۔ طبعی عملے کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا مریض انٹرپول کی ریڈ لسٹ پر تھا۔

ایک مفرور امریکی شہری جس نے اپنی ہی موت کا ڈھونڈ رچایا تھا، اسے گلاسگو کے ایک ہسپتال سے گرفتار کیے جانے کے بعد ملک بدری کا سامنا ہے۔

34 سالہ نکولاس روسی انٹرپول کو مطلوب تھا اور امریکی ریاست یوٹا میں اسے ریپ کے الزامات کا سامنا ہے۔

انھیں دسمبر میں گلاسگو کے کوئین الزبتھ یونیورسٹی ہسپتال میں کووڈ 19 کے سلسلے میں داخل کیا گیا تھا جہاں انھوں نے ایک جعلی نام آرتھر نائٹ کا استعمال کیا تھا۔

سکاٹ لینڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایک بین الاقوامی وارنٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نکولاس روسی ریاست رؤڈ آئی لینڈ میں نکولاس الاوردیئن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جہاں وہ مقامی سیاست میں ملوث تھا اور ریاست میں بچوں کے لیے ویلفیئر نظام کے ناقدین میں سے ایک تھا۔

کولاس روسی نے دسمبر 2019 میں امریکی میڈیا کو بتایا کہ انھیں کینسر کا مرض تھا اور وہ اس کے آخری مراحل میں تھے۔ کچھ میڈیا اداروں نے یہ بھی نشر کیا ہے کہ وہ فروری 2020 میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کی موت کے حوالے سے انٹرنیٹ پر ایک تعزیتی پیغام میں انھیں دو دہائیوں تک بچوں کے حقوق کے لیے لڑنے والا جنگجو قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ان کی جسد خاکی کو جلا کی بقایاجات کو سمندر میں بہا دیا گیا تھا۔

Queen Elizabeth University Hospital
Getty Images
نکولاس روسی کو گلاسکو کے کوئین الزبتھ یونیورسٹی ہسپتال کے محکمہ انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) سے تلاس کر لیا گیا تھا

نکولاس روسی کوگلاسگو کے کوئین الزبتھ یونیورسٹی ہسپتال کے محکمہ انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) سے تلاس کر لیا گیا تھا جہاں وہ وینٹیلیٹر پر تھے۔ طبعی عملے کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا مریض انٹرپول کی ریڈ لسٹ پر تھا۔

مقامی پولیس نے انھیں 13 دسمبر کو گرفتار کیا۔ کرؤان آفس نے بتایا ہے کہ انھیں امریکہ بھیجنے کے لیے جو کارروائی کی گئی اس میں انھوں نے ہسپتال سے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ہے۔

امریکی ریاست یوٹا سے کاؤنٹی اٹاری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریاست میں ملزم نکولاس روسی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق یوٹا کے حکام کو وہ ریپ کے الزام میں مطلوب تھا۔

اس کے علاوہ وہ امریکہ میں متعدد دیگر ریاستوں کو بھی مطلوب ہے۔

دیگر ایجنسیاں اسے نکولاس الاوردیئن، نکولاس الاوردیئن روسی، نکولاس ایڈورڈ روسی، نکولاس الاوردیئن۔روسی، نک ایلن، نکولاس براؤن، آرتھر براؤن، اور آرتھر نائٹ کے نام سے جانتی تھیں۔

یہ شخص اپنے فوسٹر والد کے نام پر کریڈٹ کارڈ نکال کر دو لاکھ ڈالر کے قرضاجات حاصل کرنے کے سلسلے میں ایف بی آئی کو بھی مطلوب تھا۔

خبر رساں ادارے پرووڈنس جرنل نے جمعے کے روز کہا کہ دسمبر 2019 میں، جب روسی نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں کینسر ہے تو اس سے چند ہفتے قبل ہی یوٹا میں ایک تفتیش کار نے ایف بی آئی کو اس کی لوکیشن کے بارے میں اطلاع دی۔

https://twitter.com/NBC10/status/1234920546984431616

یوٹا می لگائے گئے الزامات ایک نئی تفتیشی مہم کا نتیجہ ہیں جن میں ان جنسی جرائل کا اثرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے جن میں ڈی این اے شواہد کو ٹیسٹ نہیں کیا گیا تھا۔

نکولاس روسی 2008 میں اس کیس میں مشکوک شخص کے طور پر دیکھے جا رہے تھے۔ اس کیس کو تفتیش کار نے یوٹا کاؤنٹی اٹارنی کے دفتر بھیجے بغیر بند کر دیا تھا۔

2018 میں ڈی این اے ریوو نے اوہائیو میں ایک اور جنسی زیادتی کے کیس کے سلسلے میں ان سے رابطہ کیا۔ روسی امریکہ چھوڑ کر جا سکے تھے اور دیگر ریاستوں میں تفتیشکاروں کو یہ یقین دلا چکے تھے کہ وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.