بھارتی بکر میکرز نے منشیات دیں، بلیک میل کیا، دھمکیاں دیں، برینڈن ٹیلر

image
زمبابوے کے سابق ٹیسٹ کرکٹر برینڈن ٹیلر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بھارتی بک میکر کے ہاتھوں بلیک میل ہو چکے ہیں، اور انہیں جان کا بھی خطرہ لاحق تھا۔

برینڈن ٹیلر نے اپنی ٹوئٹ میں تین صفحات پر مشتمل تفصیلی بیان پوسٹ کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2019 میں بھارتی بزنس مین نے ان سے رابطہ کیا ، اور انہیں مبابوے میں ممکنہ ٹی ٹوئنٹی ایونٹ اور اس کی سپانسرشپ کے بارے میں بات کرنے کے لیے بھارت بلوایا، جس کے لیے 15 ہزار ڈالرز ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت زمبابوے کی کرکٹ مسائل کا شکار تھی، اور کرکٹرز کو چھ ماہ سے ادائیگیاں نہیں ہوئی تھیں، اور ان سے بہت بڑی گلطی سرزد ہوئی کہ وہ بھارت چکے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: 

بھارت میں اس بزنس مین سے ملاقات کی، اور ڈنر کرتے وقت سب کے ساتھ شراب پی،اور بعد میں انہوں نے کوکین کی پیشکش کی جو بےوقوفی میں قبول بھی کر لی۔

کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد  اگلی صبح وہی لوگ ان کے  کمرے میں آئے اور کوکین استعمال کرنے والی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرنے لگے، ان کا کہنا تھا اگر میں نے ان کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ نہیں کی تو وہ اس ویڈیو کو وائرل کر دیں گے۔

انہوں نے 15 ہزار ڈالر تھمائے اور کام مکمل ہونے پر مزید 20 ہزار ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا۔

To my family, friends and supporters. Here is my full statement. Thank you!

— Brendan Taylor (@BrendanTaylor86) January 24, 2022

ٹیلر کا کہنا ہے کہ واپسی پر وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کی وجہ سے متعدد جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو رپورٹ کرنے میں 4 ماہ کا وقت لگا کیونکہ  ان کے لیے سب سے زیادہ اہم  فیملی کی حفاظت تھی۔ انہوں نے کہا انہیں امید تھی کہ آئی سی سی اس صورتحال کو سنبھال لے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

برینڈن ٹیلر نے دعوی بھی کیا کہ اس صورتحال کے باوجود وہ کبھی بھی میچ فکسنگ میں ملوث نہیں رہے۔ برینڈن ٹیلر کا کہنا تھا کہ انھیں اندازہ ہے کہ آئی سی سی ان پر پابندی عائد کرنے والی ہے اور اس فیصلے کو وہ تسلیم کرتے ہیں۔

برینڈن ٹیلر 34 ٹیسٹ میچوں میں 6سنچریوں اور12 نصف سنچریوں کی مدد سے 2320 رنز بنا چکے ہیں۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.