سرفراز خان: ممبئی کے وہ کرکٹر جن کا موازنہ ڈان بریڈمین سے کیا جا رہا ہے

فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط 82.83 ہے۔ اس سے بہتر ریکارڈ دنیائے کرکٹ میں صرف ایک بلے باز کا ہے جو آسٹریلیا کے عظیم کرکٹر ڈان بریڈمین ہیں۔
سرفراز
Getty Images

سرفراز خان نے انڈیا کی رنجی ٹرافی فائنل ممبئی کی طرف سے کھیلتے ہوئے پہلی اننگز میں 134 رنز بنائے تو شاید وہ بھی نہ جانتے ہوں کے ان کا موازنہ ڈان بریڈمین سے ہونے جا رہا ہے۔

تاہم سرفراز خان کا بلا پورے سیزن میں بولتا نظر آیا ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط 81.06 ہے۔ اس سے بہتر ریکارڈ دنیائے کرکٹ میں صرف ایک بلے باز کا ہے اور وہ آسٹریلیا کے عظیم کرکٹر ڈان بریڈمین ہیں۔

بریڈمین نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 95.14 کی اوسط سے رنز بنائے تھے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں دو ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں سرفراز خان اوسط کے اعتبار سے بریڈمین کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔

یقیناً کریئر کی ابتدا میں ہی ایسا کارنامہ انجام دینا کسی کرشمے سے کم نہیں۔ اس سے قبل سرفراز خان نے کوارٹر فائنل میں اتراکھنڈ کے خلاف 153 رنز بھی بنائے تھے۔

سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سرفراز

سرفراز اس سیزن میں صرف چھ میچوں میں 937 رنز بنا کر سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ گذشتہ سیزن میں بھی انھوں نے 928 رنز بنائے تھے۔ دو سیزن میں 900 سے زیادہ رنز بنانے کا کارنامہ رنجی ٹرافی کی تاریخ میں اب تک صرف دو بلے بازوں یعنی اجے شرما اور وسیم جعفر نے انجام دیا۔

سرفراز خان نے لگاتار دو سیزنز میں جس انداز سے بیٹنگ کی ہے اس نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں نے گذشتہ سیزن میں ان کے 928 رنز کو ایک مضبوط واپسی کے طور پر دیکھا تھا کیونکہ اس سے پہلے سرفراز کو ایک سیزن تک ممبئی کی ٹیم سے دور رہنا پڑا تھا۔

تاہم یہاں یہ ذکر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ سرفراز خان آج اگر کرشماتی بیٹنگ کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار ان کے والد نوشاد خان ہیں۔

وہ سرفراز خان کو ممبئی کی شدید گرمی میں نیٹس کے دوران 400 گیندیں یعنی 65 سے زیادہ اوورز ہر روز کرواتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سرفراز اب زیادہ ڈسپلن، بہتر اور قابل اعتماد بلے باز کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے خلاف فائنل کی پہلی اننگز میں انھوں نے نچلے آرڈر کے بلے بازوں کے ساتھ زیادہ تر رنز بنائے۔

انھوں نے چوکے، چھکے مارنے کے لیے بری گیندوں کا انتظار کیا اور ممبئی کے ٹاپ بلے بازوں کے پویلین لوٹنے کے بعد بھی سکور کرتے رہے۔

سرفراز
Getty Images

چھوٹی عمر میں بڑا دھماکہ

سرفراز خان سکول کرکٹ سے ہی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رہے ہیں۔ اپنے والد نوشاد کے ساتھ وہ بچپن سے ہی ممبئی کے ہر گراؤنڈ میں میچوں اور پریکٹس کے مواقع تلاش کرنے جاتے تھے۔

یہی نہیں، وہ اپنی عمر سے بڑے گیند بازوں کی پٹائی کرتے تھے۔ بارہ سال کی عمر میں ہیرس شیلڈ انٹر سکول ٹورنامنٹ میں سرفراز نے 439 رنز کی اننگز کھیلی، ممبئی کرکٹ میں شاید ہی کوئی ایسا ہو گا جسے یہ اننگز یاد نہ ہو۔

اس کے بعد سرفراز نے انڈر 16 اور انڈر 19 کرکٹ میں بھی کافی رنز بنائے۔ جب انھیں سنہ 2014 میں انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع ملا تو انھوں نے چھ میچوں میں 70 سے زیادہ کی اوسط سے 211 رنز بنائے۔

اس بلے بازی نے رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) انتظامیہ کی توجہ بھی حاصل کی اور سنہ 2015 میں آر سی بی نے سرفراز خان کو 50 لاکھ روپے میں خریدا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔

اس سب نے سرفراز کا خوب حوصلہ بڑھایا۔ سنہ 2016 میں انھیں انڈر 19 ورلڈ کپ میں دوبارہ کھیلنے کا موقع ملا اور اس بار چھ میچوں میں سرفراز کے بلے نے 355 رنز بنائے۔

سرفراز کے کریئر میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ وہ آئی پی ایل کی ٹیم میں تھے، ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل رنز بنا رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ انڈین ٹیم کا دروازہ بھی اب زیادہ دور نہیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، سرفراز کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

سرفراز
Getty Images

والد سرفراز کے کوچ ہیں

سرفراز خان کو سنہ 2014 میں ممبئی کی رنجی ٹیم میں ڈیبیو کرنے کا موقع ملا لیکن ٹیم میں ان کی جگہ پکی نہیں ہو سکی۔ وہ ٹیم کے مستقل رکن کی حیثیت سے خود کو منوا نہیں پا رہے تھے۔ اس کے پیشِ نظر ان کے والد اور کوچ نوشاد خان نے ایک اہم فیصلہ کیا۔

چونکہ ان کا خاندان اتر پردیش کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے نوشاد نے محسوس کیا کہ ان کے بیٹے کو اتر پردیش کی طرف سے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔

یہ سوچتے ہوئے انھوں نے سنہ 2015-16 میں وہ اتر پردیش میں جا بسے۔ تاہم یہ فیصلہ سرفراز کے لیے بہت برا ثابت ہوا۔ انھیں دو سیزنز کے دوران یوپی کے لیے مسلسل کھیلنے کے مواقع نہیں ملے۔

اس کی ایک وجہ تو ان کا زخمی ہونا تھا، جس کے باعث انھیں اترپردیش کی ون ڈے ٹیم سے بھی باہر کر دیا گیا۔ تاہم جب انھیں ڈراپ کیا گیا تو انھوں نے سنہ 2016 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھرپور فارم دکھائی اور یوں آئی پی ایل میں آر سی بی کی جانب سے انھیں خریدا گیا۔

تاہم وقت کے ساتھ یہ سب سرفراز کے کھیل پر اثر انداز ہونے لگا۔

رائل چیلنجرز بنگلور کے اس وقت کے کپتان وراٹ کوہلی نے بھی سرفراز خان کو وزن کم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کی ٹیم نے انھیں ان فٹ ہونے کی وجہ سے باہر کا راستہ دکھایا تھا اور اس دوران ان کی کمر اور گھٹنے میں درد شروع ہوا۔

سرفراز
BBC

ممبئی کی ٹیم میں واپسی کا چیلنج

کنفیوژن کے اس دور میں سرفراز خان نے اپنے لیے دو اہداف بنائے، ایک فٹنس کا حصول اور دوسرا انڈین کرکٹ کے گڑھ ممبئی واپس جانا۔

وہ سمجھ چکے تھے کہ انڈین ٹیم تک ان کی رسائی اسی صورت میں ممکن ہو گی جب وہ ممبئی کی ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔

ممبئی کی ٹیم کے لیے کھیلنے کے لیے انھوں نے پری سیزن کو ’کولنگ پیریڈ‘ کے طور پر گزارا۔ اس کے بعد ان کے سامنے چیلنج ممبئی کی ٹیم میں واپسی کا تھا۔

سنہ 2018-19 میں انھوں نے ممبئی کے پریمیئر کلب ٹورنامنٹ کانچا لیگ کے اے ڈویژن میں سب سے زیادہ رنز بنائے۔

ممبئی کے دو سرفہرست بلے باز شریئس ایئر اور شیوم دوبے کو انڈین ٹیم میں جگہ ملی اور یوں سنہ 2019-20 میں سرفراز کو واپسی کا موقع ملا۔

اس سیزن میں ممبئی کی کارکردگی مایوس کن رہی لیکن سرفراز نے 11 اننگز میں 80 کے لگ بھگ سٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے۔

واپسی کے سیزن میں سرفراز ٹیم کے لیے رنز بنانے والے بلے بازوں میں پانچویں نمبر پر رہے لیکن کرکٹ تجزیہ کاروں کی جانب سے انھیں سب سے زیادہ داد ملی۔

سرفراز
Getty Images

سرفراز کی بیٹنگ کی سب سے بڑی خوبی ان کی ٹائمنگ ہے۔ اگرچہ ان کی بیک لفٹ اتنی زیادہ نہیں لیکن ٹائمنگ کی وجہ سے ان کے پاس ہر گیند کو کھیلنے کے لیے کافی وقت ہوتا ہے۔

سچن ٹنڈولکر اور روہت شرما کی طرح حالیہ دنوں کے ممبئی کرکٹ کے بہترین بلے باز سرفراز خان کو آنے والے دنوں کا سٹار سمجھا جا رہا ہے۔

رنجی کرکٹ میں لگاتار دو سیزن میں رنز بنانے والے سرفراز کا کریئر ایک بار پھر پٹری پر ہے۔ ان کے ساتھی کرکٹرز پرتھوی شا، شاردول ٹھاکر، شریئس ایئر اور شیوم دوبے کو انڈین ٹیم میں موقع ملا ہے تو 24 سالہ سرفراز خان بھی اب زیادہ دور نہیں ہیں۔

رنجی ٹرافی فائنل میں ان کی سنچری ایک بار پھر قومی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرے گی اور کیا معلوم نومبر میں بنگلہ دیش میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ٹیم میں ان کا نام بھی شامل ہو جائے اور ان کا انڈین ٹیم کے لیے کھیلنے کا خواب پورا ہو جائے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.