’وہ دو گئے تھے اور چھ لوٹے‘: ایک خاندان جس نے 1928 کی کار پر 22 برس دنیا کا سفر کیا

دو گئے اور چھ واپس لوٹے، پانچ براعظموں کے 102 ممالک کا دورہ کرنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے خوبصورت چیز جو انھیں ملی وہ تھے ’لوگ‘۔
Mapa del periplo.
Cortesía: Flia. Zapp
سفر کا نقشہ

وہ دو گئے تھے مگر چھ واپس لوٹے، پانچ براعظموں کے 102 ممالک کا دورہ کرنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے خوبصورت چیز جو انھیں ملی وہ لوگ تھے۔ اور یہ سب جو خواب جیسا اور ناممکن لگتا ہے، نہ صرف ہو سکتا ہے بلکہ ضروری ہے۔

ہرمن اور کینڈیلیریا زپ کا ایک دیرینہ خواب تھا جسے انھوں نے برسوں ملتوی کیے رکھا۔ کچھ نوجوان بیگ پیکنگ کرتے ہیں جبکہ ایک شادی شدہ جوڑے کے لیے جو 30 کے پیٹے میں ہو، مستحکم ملازمتیں اور گھر بنانا ضروری تھا۔

ہرمن نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ 'میں کینڈ کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ آٹھ سال کی تھی اور جب وہ 14 سال کی ہوئی تو ہم دوست بن گئے، ہم نے اکھٹے سفر کرنے کا خواب دیکھا۔ ہم نے سوچا کہ شادی کے دو سال بعد ہم وہاں سے چلے جائیں گے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی کیسی ہوتی ہے! مختلف بہانے۔۔ خوف۔۔۔ سب کچھ ملتوی ہو رہا تھا۔'

شادی کے چھ سال بعد ان کے منصوبوں میں بچے تھے، اگرچہ وہ بچے چاہتے تھے۔ لیکن اس خیال نے خطرے کی گھنٹی بجائی اور انھوں نے سوچا ’اگر بچے ہو گئے تو ہم کبھی سفر نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمیں لگتا تھا بچوں کے ساتھ آپ نہیں کر سکتے۔‘

ابتدائی طور پر یہ دنیا کے دوسری طرف کا سفر تھا، جس میں جنوبی ارجنٹائن جانے کے لیے شمالی الاسکا پہنچنا تھا۔

اگرچہ بالکل کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، لیکن انھوں نے حساب لگایا کہ اس میں انھیں چھ ماہ لگیں گے جس کے دوران، نقل و حمل کے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے، وہ امریکہ کا ایک سرے سے آخر تک سفر کریں گے۔

Herman y Candelaria
Cortesía: Flia. Zapp
دو لوگ جو سفر پر نکلے

یہ پاگل پن تھا

’سنہ 2000 میں اپنے خواب کو پورا کرنے کے بارے میں بات کرنا 2020 جیسا نہیں تھا، خواب دیکھنے کی چیز تھے۔ کوئی بھی سوشل نیٹ ورک نہیں تھا جو آپ کو دوسرے مسافروں یا دوسرے ممالک کے لوگوں کے بارے میں معلومات دیتا لہٰذا ہمارے اردگرد کے لوگوں کو لگا کہ ہم جو منصوبہ بنا رہے ہیں، یہ بہت پاگل پن تھا۔ ‘

ہرمن کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت ایسا آیا جب انھوں نے گھر والوں کو تفصیلات بتانا بند کر دیا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی تجربے یا کافی رقم کے اس مہم جوئی کا آغاز کرنے والے تھے‘ انھوں نے بظاہر ایک مضحکہ خیز فیصلہ کیا تھا۔‘

اس سفر میں یہ ان کی ایک اور ساتھی تھی جو جانے سے تین ماہ قبل ان کے ساتھ شامل ہوئی : 1928 کی گراہم-پیج ڈیٹرائٹ سے بنی کلاسک کار جس سے ہرمن کو پیار ہو گیا تھا۔

انھوں نے اس کار کا نام ماکونڈو کمبلاچ رکھا۔

وہ اسے ٹو ٹرک میں گھر لے آئے اور کینڈیلیریا کو بتایا ’منصوبہ بدل گیا ہے اور اب ہم کار سے جا رہے ہیں۔‘

اس کار میں انھوں نے آرام دہ رفتار سے تین لاکھ باسٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، ’یہ کار ان لوگوں کے لیے بھی مسکراہٹیں لائی جنھوں نے اسے اپنے علاقے سے گزرتے دیکھا۔‘

En el desierto Wadi Ram, Jordania
Cortesía: Flia. Zapp
وادی رام صحرا، اردن میں۔

’افسوسناک لمحہ‘

اس کا سفر کرنے کا انداز ہمیشہ ’جا کر دیکھتے ہیں‘ تھا، جس کے زیادہ تر وقت بہترین نتائج ملتے تھے۔

لیکن جب پہلی بار ان کے پاس پیسے ختم ہوئے، ’یہ ایک المناک... مایوس کن لمحہ تھا‘

ہرمن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ہم ایکواڈور میں تھے، جہاں معاشی صورتحال بہت خراب تھی۔ وہ سوکر سے ڈالر کی طرف چلے گئے تھے۔ اچھی تنخواہ زیادہ سے زیادہ 60 امریکی ڈالر تھی جس کا مطلب تھا ہم سفر جاری رکھنے کے لیے کبھی بھی بچت نہیں کر پائیں گے۔‘

کینڈیلیریا نے پینٹ کرنا شروع کیا اور پرندوں کی کچھ بہت اچھی تصویریں بنائیں، ہرمن نے انھیں فریم کرکے بیچ دیا۔

’ہم نے ایکواڈور میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے ہمیں طاقت ملی۔

’کولمبیا میں ایک شخص جس کے پاس پرنٹنگ پریس تھا، نے ہم سے سوال پوچھا کہ ہم اپنا خرچہ کس طرح پورا کرتے ہیں؟ ہم نے اسے بتایا کہ پینٹنگز کے ساتھ، لیکن ہمیں اس سے چھوٹی چیز کی ضرورت ہے۔‘

’اس نے ہمارے سفر کی کچھ تصاویر لیں اور ہمارے لیے 500 پوسٹ کارڈ اور کچھ نوٹ بک لائے جن کے سرورق ہمارے وہی فوٹو تھے۔

’خیال یہ تھا کہ لوگ ان پر اپنے خواب لکھیں، لیکن انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارے سفر کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں، اس لیے ہم نے انھیں لکھنا شروع کر دیا۔‘

انھوں نے جلد ہی پہلی کتاب شائع کی جو انھیں سالوں کے دوران سفر کے لیے مالی مدد فراہم کرنے والی تھیں۔

لیکن وہ یہ بھی سیکھ رہے تھے کہ بے پناہ دولت کا ایک اور ذریعہ بھی تھا: لوگوں کا جذبۂ خیر سگالی۔

El auto en un atardecer
Cortesía: Flia. Zapp

جب کولمبیا سے پاناما جانے کے لیے انھیں ماکونڈو کمبلاچ (کار کا نام) کو براستہ سمندر ٹرانسپورٹ کرنے کی ضرورت پیش آئی، وہاں انھیں ایک نہیں بلکہ تین شپنگ کمپنیاں ملیں جو انھیں مفت میں لے جانا چاہتی تھیں ’میں نے ایک کو چنا اور دوسری کے مالک نے جسے میں نے منتخب نہیں کیا تھا مجھے کہا، 'کم از کم مجھے آپ کے ہوائی جہاز کے سفر کے لیے ادائیگی کرنے دیں۔‘

’پہلے تو یہ کچھ مشکل تھا، لیکن جلد ہی ہم نے محسوس کیا کہ سفر کے بارے میں سب سے اچھی چیز وہ ہے جو آپ بغیر پیسوں کے کرتے ہیں۔‘

Ellos dos y el auto
Cortesía: Flia. Zapp

پہلا بچہ

تقریباً دو سال کے سفر کے بعد، انھوں نے محسوس کیا کہ ’کسی چیز کی کمی ہے۔‘

’اس کے علاوہ کینڈیلیریا کی بہن بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں تھی اور ہر ممکن علاج سے گزر رہی تھی، لہٰذا ہم نے سوچا کہ اگر ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، تو یہ سال گزرنے سے پہلے شروع کرنا بہتر تھا۔‘

’اور، ٹھیک مشہور 11 ستمبر (2001) کے دن ہم نے ایک دوسرے کو زیادہ بھینچ کر گلے لگایا۔

بیلیز میں تصدیق ہوئی کہ وہ حاملہ تھیں لیکن وہ گھبرا گئے۔

’ہاں میں گھبرا گیا کیونکہ باپ بننے کے بارے میں سوچنا اور بات ہے اور حقیقت میں یہ جاننا کہ ’آپ باپ بننے والے ہیں‘ مختلف احساس ہے۔ ہمارے پاس پیسہ کمانے یا بچانے کے بہت زیادہ امکانات نہیں تھے۔۔ ہم بہت زیادہ تیار نہیں تھے۔‘

Sentados con su mesa y elefantes
Cortesía: Flia. Zapp

حالات کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے سفر پر تاریخیں ڈال دیں۔

’بیلیز میں 15 دن، میکسیکو میں دو مہینے، امریکہ میں تین، کینیڈا میں دو اور اس لیے ہم صرف الاسکا میں بچے کی پیدائش کے لیے پہنچے۔‘

لیکن ایک امیش مینونائٹ کمیونٹی نے انھیں اپنے ساتھ دو ہفتے گزارنے کی دعوت دی اور میں نے اس سے کہا: ’کینڈ، ہمیں مینونائٹس کے ساتھ رہنے کا موقع پھر کب ملے گا‘ اور جب وہ کینکون میں تھے، تو انھیں کیوبا مدعو کیا گیا اور میں کہتا : ’کینڈی، ہمیں کیوبا میں 15 دن رہنے کا موقع کب ملے گا؟‘

بالآخر، پمپا 2002 میں گرینسبورو، شمالی کیرولینا میں پیدا ہوئے، جہاں انھیں گراہم-پیج ونٹیج کار میٹ اپ میں مدعو کیا گیا تھا۔

Los seis.
Cortesía: Flia. Zapp
جو وہ چھ ہوگئے

’یہ سحر انگیز تھا‘

ہرمن یاد کرتے ہیں کہ ’ہم نے حکومت سے مدد مانگی، کیونکہ میں امریکہ میں پیدا ہوا تھا، لیکن انھوں نے مجھے انکار کر دیا کیونکہ میں وہاں کا رہائشی نہیں تھا۔‘

’ہم ہسپتال گئے، اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ایک پرائیویٹ کمپنی کی ملکیت ہے، اس لیے انھوں نے زیادہ فیس لی۔ 12,000 امریکی ڈالر۔ تو وہ ہم لوگوں سے مدد مانگنے کے لیے اخبار کے پاس گئے۔‘

’انھوں نے ہمارے سفر، ہمارے خواب، ہماری منزل، بلکہ ہماری صورتحال کے بارے میں بہت اچھی تحریر لکھی اور اس میں کہا گیا کہ اگر لوگ ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، تو وہ اس خاندان کے فون نمبر پر کال کر سکتے ہیں جس نے ہمارا استقبال کیا تھا۔

’چار دن تک فون بجنا بند نہیں ہوا۔‘

Paloma en Africa
Cortesía: Flia. Zapp

ایک دادی ایک سویٹر بھیجنا چاہتی تھی جو وہ اپنے پوتے کے لیے بنا رہی تھی، ڈاکٹروں اور نرسوں نے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ڈیلیوری کے وقت ڈیوٹی پر ہوئے تو چارج نہیں کریں گے۔

مختلف گرجا گھروں نے فنڈ ریزنگ کی تقریبات کا اہتمام کیا، جبکہ ان کے لیے سبزیاں اور پھل لائے گئے اور ان سے کتابیں اور پینٹنگز خریدی گئیں۔

’آخر میں ہم نے صرف ہسپتال کے ہوٹل کے لیے ادائیگی کی۔ یہ واقعی اچھا تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کیونکہ اب ہمارا ایک خاندان شمالی کیرولینا میں ہے۔‘

اور الاسکا؟

’ہم چھ ماہ میں الاسکا نہیں پہنچ سکے، ہم وہاں تین سال اور نو ماہ میں پہنچے۔ تھوڑا سا حساب غلط تھا۔‘

لیکن اس خواب تک پہنچنے سے پہلے ہی کچھ عجیب ہوا۔

Cruzando el Amazonas
Cortesía: Flia. Zapp
ایمیزون عبور کرتے ہوئے

’جب الاسکا جانے کے لیے 30 کلومیٹر باقی تھے تب کینڈ نے مجھے کہا: میں وہاں پہنچنا نہیں چاہتی‘

’آپ الاسکا کیوں نہیں جانا چاہتیں؟‘

’بات یہ ہے کہ اگر ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں تو خواب ختم ہو جاتا ہے، اور خواب کی خوبصورتی اسے پورا کرنا نہیں ہے، اسے جینا ہے، اس میں رہنا ہے۔‘

’پھر ہمیں یہ دیکھنے کے لیے رکنا پڑا کہ یہاں کون سی چیز ہمیں خوشی دے سکتی ہے۔‘

’اور ہمیں پتا چلا کہ الاسکا ایک خواب کا اختتام نہیں بلکہ دوسرے کا آغاز بھی ہے۔۔۔‘

اس لیے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن انھیں ارجنٹائن واپس جانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

آپ اچھے سیاح کیسے بن سکتے ہیں؟

کوما کی تاریکی سے دنیا بھر کی سیاحت تک

’پوری زندگی وہیل چیئر پر گزاری، اب اسی پر دنیا کے 20 ممالک گھوم چکی ہوں‘

ایک بڑا باغ

کینڈیلیریا کی ماں بیمار تھیں۔

واپسی کے 5 دن بعد ان کا دوسرا بیٹا، 2005 میں کیپلا ڈیل سینور میں پیدا ہوا۔ وہ 13 دن کا ہوا تو وہ دوبارہ روانہ ہوئے۔

مزید بچے پیدا کرنے کی خواہش کے ساتھ، انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی سواری اب چھوٹی پڑ جائے گی۔

جیسا کہ ’کسی کو چیزوں کے مطابق نہیں ہونا پڑتا ہے، لیکن چیزوں کو ان کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے‘، انھوں نے نشستوں کی ایک اور قطار لگانے کے لیے اسے آدھا کر دیا۔

Los Zapp
Getty Images

اس طرح، بچے ایک خیمے میں سو سکتے تھے جو چھت پر تھا، اور والدین، نیچے، کرسیوں پر جو بستر بن گئے تھے۔

اوپر والے ’کمرے‘ میں پالوما، جو 2007 میں وینکوور، کینیڈا میں پیدا ہوئے تھے، اور والیبی، جو 2009 میں آسٹریلیا میں پیدا ہوئے تھے، کے ساتھ ساتھ ٹیمون کتا اور ہاکونا، بلی بھی شامل تھے۔

’بچوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے جتنی چیزیں نکالنی پڑتی ہیں نا! انھیں کار سیٹ، پالنا، لنگوٹ چاہیے ہوتا ہے۔۔۔ جب وہ پیدا ہوئے تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، لیکن بچوں کے لیے چیزیں بدلنا کتنا اچھا ہے! ‘

باورچی خانہ اصل لکڑی کے ٹرنک میں تھا۔

’ایک چھوٹا سا گھر جس میں ایک بڑا باغ ہے، جس کے بارے میں وہ ابھی تک مکمل طور پر جان نہیں پائے‘، جس میں انھوں نے سمندر، جھیلوں، دریاؤں، جزیروں، پہاڑوں اور صحراؤں کو دیکھتے ہوئے ان گنت راتیں گزاریں۔

La familia Zapp
Cortesía: Flia. Zapp

نقطہ آغاز

یہ زیپ خاندان فروری 2022 میں ارجنٹینا واپس آیا ہے۔

بچے اب اتنے چھوٹے نہیں ہیں: پمپا کی عمر 20 سال، ٹیہو، 17، پالوما، تقریباً 15، اور والیبی، 13 سال کے ہیں۔

وہ قابل رشک تعلیم کے ساتھ واپس آئے۔

’انھوں نے جغرافیہ سیکھا، زبانیں، دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے سماجی علوم، تمام سماجی طبقوں اور ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ شیئر کیا اور انھوں نے دیکھا کہ عبادت کرنے، رہنے کے، کھانے کے ہزاروں طریقے ہیں۔‘

’انھوں نے افریقہ میں فوڈ چین کا عملی مظاہرہ دیکھا، جب ایک چیتے نے ایک ہرن کو کھا لیا جو گھاس کھا رہا تھا اور ایک تیندوے نے چیتے کا شکار چرا لیا، اور انھوں نے سمندر میں غوطہ لگا کر حیاتیات سیکھی۔‘

’ان کے پاس بہترین اور سب سے خوبصورت کلاس روم تھا۔‘

Lavando ropa
Cortesía: Flia. Zapp
کپڑے دھو کر سکھاتے ہوئے

اب انھیں معمول کی عادت ڈالنی ہوگی تاکہ وہ اس بات کا انتخاب کرسکیں کہ وہ کس قسم کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

ہرمن اور کینڈیلیریا اس بات سے واقف ہیں کہ، اگرچہ ’ہم انھیں دنیا دینے کے قابل تھے،‘ اس سفر نے بچوں کو دادا دادی، چچا اور کزنز، یا ہمیشہ سے موجود دوستوں کے ساتھ روزمرہ کی زندگی شیئر کرنے سے محروم کردیا۔‘

’اب وہ ایک ہی گھر میں رہنے کا تجربہ کر رہے ہیں، ایک شیڈول کے ساتھ، چھٹیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ تو بعد میں وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیا پسند کرتے ہیں، کیونکہ اگر آپ نے کبھی چاکلیٹ نہیں چکھیں، تو آپ نہیں جانتے کہ یہ مزیدار ہے یا نہیں۔‘

ان کے والدین، اس دوران اگرچہ قریب کی جگہوں پر ہی سہی، مگر سڑکوں پر سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Llegando a Alaska
Cortesía: Flia. Zapp

’اب ہم سب سے زیادہ جو چیز کرنا چاہتے ہیں وہ خوابوں کو پورا کرنے میں مدد کرنا ہے اور ہم یہ خبر لے کر شہر شہر جا رہے ہیں کہ سیاست، معیشت، عالمی صورتحال، جنگ، وائرس کے باوجود کوئی بھی اپنی حقیقت خود بنا سکتا ہے۔‘

’اور یہ کہ کوئی اکیلا نہیں ہے، ہم 7000 ملین دوستوں میں سے ہیں!‘

’جب مجھے کشتیوں کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ آدمی یا کمپنیاں جو مدد کی پیش کش کرتی تھی وہ کسی تشہیر کے مقصد سے ایسا نہیں کرتی تھیں، بلکہ ہمارے سفر کا حصہ بننے کے لیے مدد کرنا چاہتی تھیں۔۔۔ 2000 خاندان ایسے تھے جنھوں نے اپنے گھروں کے دروازے ایک ایسے خاندان کے لیے کھولے جسے وہ بالکل نہیں جانتے تھے۔‘

De vuelta en Argentina
Getty Images
ارجنٹائن میں واپس۔

’اور اس طرح ایک ہزار چیزیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ایک حیرت انگیز دنیا ہے جو آپ کے خواب کا حصہ بننا پسند کرتی ہے اور جو کچھ بھی کرنا ہے وہ شیئر کرنا ہے۔ ہم اکیلے رہنے کے لیے نہیں آئے۔ چیزیں زیادہ بابرکت اور مزیدار ہوتی ہیں جب ہم ان کو بانٹتے ہیں، کیا ایسا نہیں؟‘

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مزید سفر نہیں کریں گے: اگلے سال وہ ایک بادبانی کشتی میں دنیا بھر میں گھومنے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جیسا کہ انھوں نے بحر اوقیانوس کو عبور کیا تھا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.