bbc-new

یوکرین جنگ: روس کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟

برطانوی انٹیلیجنس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں جنوبی یوکرین میں کسی فیصلہ کن تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سر جم ہوکن ہل نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے روس کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

برطانوی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس اور یوکرین کی جانب سے اس سال یوکرین میں کوئی فیصلہ کن فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔

ایک غیر معمولی پبلک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل سر جم ہوکن ہل نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے روس کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

اس سال 23 فروری کو جنرل ہوکن ہل رات گئے تک اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے۔ وہ آدھی رات کو سائیکل چلا کر گھر آئے، اور تقریباً 01:00 بجے سو گئے۔

ایک گھنٹے بعد انھیں فون آیا کہ یوکرین کی سرحد پر غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد وہ اپنی سائیکل پر واپس دفتر چلے گئے۔

تھوڑی ہی دیر بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ روس نے واقعی اپنے پڑوسی پر حملہ کر دیا ہے۔

چند منٹ بعد ہی وہ برطانیہ کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے سب سے بڑے مسلح تصادم کے آغاز کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔

جنرل ہاکن ہل گذشتہ چار برسوں سے ڈیفنس انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر، ایک ایسی تنظیم چلا رہے ہیں جو انتہائی خفیہ اور حساس نوعیت کی معلومات سے نمٹتی ہے۔

یوکرین کی جنگ نے نہ صرف اس ایجنسی کے بلکہ ان کے اپنے کام کو بھی مزید اہم بنا دیا ہے۔

جنرل ہوکن ہل کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں انھیں یقین ہو گیا تھا کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہی وہ وقت تھا جب انھوں نے سوچا کہ ’یہ ہونے والا ہے۔‘

حملے سے ایک ہفتہ قبل، انھوں نے ٹوئٹر پر روس کے ممکنہ حملے کے منصوبوں کا نقشہ شائع کرنے کا انتہائی غیر معمولی فیصلہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو کہ آسان نہیں تھا، لیکن وہ اس بات پر قائل تھے کہ یہ معلومات پبلک ڈومین میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔

جنرل ہوکن ہل کہتے ہیں کہ ’جھوٹ کے سامنے آنے سے پہلے سچ کو سامنے لانا ضروری ہے۔‘

وہ روس کے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کی صلاحیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے مغربی فیصلے کا بھی دفاع کرتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اس سے انھیں، روس کو یوکرین اور مغرب کے خلاف نام نہاد فالس فلیگ آپریشن کرنے سے روکنے میں مدد ملی ہے۔ ان آپریشنز کا مقصد یوکرین اور مغرب کو اس تنازع کی شروعات کے لیے موردِ الزام ٹھرانا تھا۔

اس سے پہلے عوام کے ساتھ اتنی انٹیلی جنس شاذ و نادر ہی شیئر کی گئی ہے۔ ڈیفنس انٹیلی جنس اس حملے کے بعد سے جنگ کے دوران روزانہ اپ ڈیٹس شائع کرتی رہی ہے۔

انٹیلی جنس کوئی سائنس نہیں۔ پیشگوئیاں امکانات کے پیمانے پر کی جاتی ہیں، اور ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنھوں نے برطانیہ کی ڈیفنس انٹیلیجنس کو حیران کر دیا ہے۔

جنرل ہوکن ہل کا کہنا ہے کہ مغربی اتحاد اور یوکرینی مزاحمت کی طاقت توقعات سے بڑھ کر دیکھی گئی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اسی طرح روسی فوج کی ناکامیاں بھی امید سے کہیں زیادہ دیکھی گئی ہیں۔ روسی کمان، کنٹرول اور لاجسٹکس ’ناقص‘ رہے ہیں اور وہ سٹریٹیجک اور حکمت عملی کی سطح پر سیاسی مداخلت کا شکار ہوئے۔

جنرل ہاکن ہل کا کہنا ہے کہ روس کے سیاسی اور فوجی طبقے کے درمیان اعتماد کا فقدان رہا ہے اور وہ حیران ہیں کہ ماسکو کو ایک ہی وقت میں ان تمام مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

جنرل ہوکن ہل کہتے ہیں کہ ’ہمیں بائنری لحاظ سے نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ جیت رہے ہیں یا ہار رہے ہیں، یا یہ سوچنا کہ یہ ایک تعطل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ روس نے واضح طور پر بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور اب اس کے بعد وہ فورسز کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسے اپنے فوجیوں کو ڈونباس کے علاقے سے ہٹا کر جنوب میں دوبارہ تعینات کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خیرسون اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں یوکرینی افواج کے دباؤ میں ہیں۔

تاہم جنرل ہوکن ہل کا کہنا ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں جنوبی علاقے میں فیصلہ کن تبدیلی کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی جانب سے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن جوابی حملے اور جوابی کارروائیاں ہوں گی۔ اور انھیں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ اس سال دونوں طرف سے فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک طویل المدت تنازع ثابت ہوگا۔

نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کا آپشن

اس صورتحال میں کچھ اور اہم سوال جنم لیتے ہیں- اگر صدر ولادیمیر پوتن اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے تو وہ کیا کریں گے؟ کیا وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا سہارا لے سکتے ہیں؟

جنرل ہوکن ہل کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ اس پر "انتہائی گہری" نظر رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں کساد بازاری کا خدشہ: کیا اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا؟

زاپوریژیا: روس کے زیر قبضہ یوکرین کے جوہری پاور پلانٹ پر دوبارہ حملہ، یہ پلانٹ کتنا خطرناک ہے؟

یوکرینی شہر جہاں رہنے والوں کے لیے نیند پوری کرنا ممکن نہیں

روسی فوجی نظریے یا ملٹری ڈاکٹرائن میں، مغرب کے برعکس، فوجی کارروائیوں کے لیے حکمت عملی یا میدان جنگ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا آپشن موجود ہے۔

لیکن ان کا یہ خیال ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار فوری طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

تاہم یہ وہ عنصر ہے جس پر وہ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر میدان جنگ میں متحرک تبدیلیاں آتی ہیں تو ان کے استعمال ہونے کا امکان تبدیل ہو سکتا ہے۔

چین سے متعلق تحفظات

ڈیفنس انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر چار سال کے بعد، جنرل ہوکن ہل برطانیہ کی دفاعی سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ تعینات ہونے والے ہیں۔

اس عہدے پر رہتے ہوئے وہ خلا اور سائبر میں برطانیہ کی سرگرمیوں کی نگرانی اور خصوصی افواج کے استعمال کی نگرانی کریں گے۔

وہ اب بھی روس کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن وہ چین کے بارے میں بھی فکر مند ہے۔

بیجنگ حالیہ ہفتوں میں تائیوان کے خلاف اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔

جنرل ہوکن ہل کا کہنا ہے کہ یہ بات غور طلب ہے کہ فوجی جدت والا ایک ملک کسی مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتا ہے۔

تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ برطانوی ملٹری انٹیلیجنس کا کام آسان ہونے والا نہیں ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.