bbc-new

کیا 100 سال زندہ رہنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے؟

امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کا خیال ہے کہ اس صدی میں لوگوں کی متوقع عمر نئی حدوں کو چھو لے گی اور ممکن ہے کہ مزید لوگ اپنے کیک پر 125 یا 130 کی موم بتیاں رکھیں گے۔
BBC
BBC
جوزیفہ ماریا کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی 120ویں سالگرہ منائی ہے

جوزیفہ ماریا کے رشتہ داروں نے دیکھا کہ وہ اس سال کے شروع میں ٹھیک محسوس نہیں کر رہی تھیں جب انھوں نے ہر روز سگریٹ مانگنا چھوڑ دیا تھا۔

یہ برازیل کی ریٹائرڈ کسان کی 120ویں سالگرہ منانے کے بعد ہوا۔ جوزیفہ کے بچوں میں سے ایک سیسرا کہتی ہیں کہ ’میری ماں نے ساری زندگی سگریٹ نوشی کی ہے۔‘ انکے 22 بچے تھے۔

’جیسے جیسے وہ عمر رسیدہ ہوتی گئیں ہم نے ان سے سگریٹ نوشی چھڑوانے کی کوشش کی۔ لیکن میری والدہ ہمیشہ خود جا کر سگریٹ خریدنے کی دھمکی دیتی تھیں۔‘

رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ وہ اپنے ملک میں مقامی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے لیے ’دنیا کی معمر ترین خاتون‘ ہونے کی وجہ سے مشہور تھیں۔

ادھر جسیپی کے برتھ سرٹیفکیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ 7 فروری 1902 کو پیدا ہوئے تھے اور گنیز ورلڈ ریکارڈ کے لیے ان کی درخواست کامیاب رہی تھی۔

دنیا کی معمر ترین شخصیت کا موجودہ خطاب فرانسیسی راہبہ لوسیل رینڈن کا ہے جو سسٹر آندرے کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی عمر 118 سال ہے۔

مردوں میں یہ ریکارڈ وینزویلا سے تعلق رکھنے والے جوآن ویسینٹے مورا کے پاس ہے جن کی عمر 113 سال ہے۔

ان برسوں میں سسٹر آندرے کا دنیا کی واحد بزرگ خاتون کے طور پر مقام مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ کیونکہ سو سالہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

جلد ہی ہمارے پاس دس لاکھ سے زیادہ سو سالہ لوگ ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے اندازے کے مطابق 2021 میں دنیا میں 100 سال سے زائد عمر کے تقریباً 621,000 افراد تھے۔ موجودہ دہائی کے اختتام تک یہ تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی۔

100 years
Getty Images

اس کے مقابل 1990 میں صرف 92 ہزار افراد اس حد تک پہنچے تھے۔

انسانوں نے لمبی عمر کی راہ میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ معاشی ترقی، ادویات، علاج، خوراک اور زندگی کے بہتر حالات کی بدولت انسان نے اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں طویل عمر پائی ہے۔

1960 میں جب اقوام متحدہ نے عالمی اعداد و شمار ریکارڈ کیےتو اوسط عمر تقریباً 52 سال تھی۔

مگر ہمیں 100 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

دنیا بھر میں ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی 75ویں سالگرہ تک پہنچنے کی توقع بھی نہیں کر سکتے کیونکہ عالمی اوسط متوقع عمر تقریباً 73 سال ہے۔

یقیناً مختلف ممالک میں صورتحال ایک جیسی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر جاپان میں ایک اوسط فرد 85 سال کی عمر تک زندہ رہتا ہے اور وسطی افریقی جمہوریہ میں رہنے والا ایک اور شخص اوسطاً صرف 54 سال تک زندہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ جو بڑھاپے کو پہنچتے ہیں وہ دائمی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں سیل بائیولوجی کی پروفیسر جینیٹ لارڈ کہتی ہیں کہ ’لمبی عمر کا مطلب اچھی زندگی گزارنا نہیں۔‘

پروفیسر لارڈ کے مطابق اوسطاً مرد اپنی زندگی کے 16 سال ذیابیطس اور ڈمنشیا جیسی بیماریوں میں گزارتے ہیں اور خواتین اپنی زندگی کے 19 سال ایسے گزارتی ہیں۔

لمبی عمر کا راز کیا ہے؟

100 years
BBC
برازیل کی ایک سابقہ ​​فارم ورکر جوزیقہ ماریا کہتی ہیں کہ ان کی عمر 120 سال ہے اور انھوں نے حال ہی میں سگریٹ نوشی ترک کی ہے

سو سال کی عمر تک پہنچنا آسان نہیں۔

بوسٹن یونیورسٹی کی طویل تحقیق میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 50 لاکھ امریکیوں میں سے صرف ایک ہی کم از کم 110 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔

اگرچہ محققین نے 2010 میں یہ تعداد 60-70 افراد کے لگ بھگ بتائی تھی لیکن 2017 میں یہ تعداد 150 افراد تک پہنچ گئی ہے۔

سو سال زندہ رہنے والوں میں وہ سائنسدان بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جو انسانی لمبی عمر اور بڑھاپے کے شعبے میں تحقیق کرتے ہیں۔

پروفیسر لارڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ لوگ عمر بڑھنے کے نتیجے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں لچک رکھتے ہیں، اور ہم واقعی نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے۔‘

لمبی عمر کے علاوہ ایسے افراد اپنی صحت اور اچھی جسمانی حالت کے لیے مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کے خاندان کے افراد کے مطابق، جوزیفہ کو مسلسل کوئی دوا لینے کی ضرورت نہیں ہے اور پھر بھی وہ مٹھائیاں اور سرخ گوشت کھاتی ہیں۔

یہ سچ ہے کہ ان کی یادداشت خراب ہو گئی ہے اور ان کی بینائی کم ہو گئی ہے لیکن سیسرا تسلیم کرتی ہے کہ وہ اب بھی اپنی ماں کی حالت پر حیران ہیں۔

ان کے 76 سالہ بیٹے کا کہنا ہے کہ ’وہ پہلے کی طرح چل نہیں سکتیں اور ہمیں انھیں اٹھانا پڑتا ہے اور بچوں کی طرح ان کے لنگوٹ بدلنے ہوتے ہیں۔ لیکن میں اب بھی یقین نہیں کر سکتا کہ میری ماں اتنے سالوں سے زندہ ہیں، وہ بچپن سے ہی سگریٹ نوشی کرتی رہی ہیں اور کئی دہائیوں کی سخت جسمانی مشقت سے گزری ہے۔‘

ایک صحت مند زندگی کے لیے کیا ضروری

100 years
Getty Images
آندرے کی 118 سالہ بہن کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ انسان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے

لمبی عمر پر تحقیق کرنے والے ماہرین کو جو چیز حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ 100 سال یا اس سے زیادہ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں وہ ہمیشہ صحت مند طرز زندگی پر قائم نہیں رہتے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے، جوزیفہ ماریا نے تقریباً ساری زندگی سگریٹ نوشی کی ہے اور شمال مشرقی برازیل کے پسماندہ علاقے میں مشکل زندگی گزاری ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک امریکی جریدے کی 2011 کی تحقیق کے مطابق 95 سال سے زیادہ عمر کے 400 افراد میں بہت سی عادات صحت مند ہرگز نہ تھیں۔

مزید پڑھیے

صرف دس منٹ تیز واک، جلد موت سے دوری

معمر افراد میں سیکس کی چاہ پہلے سے زیادہ

بڑھتی عمر کے ساتھ وزن گھٹانا مشکل کیوں ہو جاتا ہے؟

کتنی ورزش سے دل کی شریانیں صحتمند رہتی ہیں؟

تحقیق میں تقریباً 60 فیصد لوگ بہت زیادہ تمباکو نوشی کرتے تھے اور ان میں سے نصف اپنی زندگی میں موٹاپے کا شکار تھے۔ اور صرف تین فیصد سبزی خور تھے اور ان سب حیران کن چیزوں میں سے ایک یہ تھی کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ ورزش نہیں کرتے تھے۔

برطانیہ کی برائٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ فراگر کہتے ہیں کہ ’وہ ایک فطری طور پر غیر معمولی صورتحال میں ہیں کیونکہ انھوں نے ہر اس چیز کے برعکس کیا ہے اور کر رہے ہیں جو ہمارے خیال میں لوگوں کو طویل عرصے تک زندہ رہنے میں مدد کرتا ہے۔‘

جینیاتی اثر

100 years
Getty Images
بہت سے بوڑھے لوگ دائمی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جینیاتی ڈھانچہ لوگوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سو سال یا اس سے زیادہ عمر پانے والے اس نقصان سے بچے ہوتے ہیں جس سے نوجوان اور ان سے کم عمر افراد متاثر ہوچکے ہوتے ہیں۔ وہ ایسی غیر صحت مند عادات رکھ کر بھی بچ نکلتے ہیں جو بہت سے دوسرے لوگوں کی موت کی وجہ بنتی ہے۔

ماہرین ان جینیاتی فوائد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اتنے واضح نہیں ہیں۔ سنہ 2020 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروپ کے زیادہ تر لوگوں میں ایسے جینز تھے جو بڑھاپے کی بیماریوں کا باعث بنتے تھے۔

100 سال کی عمر تک پہنچنے والے افراد کی تعداد میں اضافے نے سائنسدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ عام طور پر انسانی عمر میں اضافہ ہوا ہے۔

سب سے بوڑھے شخص کا ریکارڈ

100 years
Getty Images
سائنس اب بھی عمر بڑھنے کے طریقہ کار کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے

اب تک زمین پر سب سے معمر شخص جین لوئس کالمنٹ تھیں، جن کی 1997 میں 122 سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ سرکاری طور پر وہ واحد شخص تھیں جو 120 سال سے زیادہ دیر زندہ رہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محققین کا خیال ہے کہ اس صدی میں لوگوں کی متوقع عمر نئی حدوں کو چھو لے گی اور ممکن ہے کہ مزید لوگ اپنے کیک پر 125 یا 130 کی موم بتیاں رکھیں گے۔

ایک محقق اور شماریات دان مائیکل پیئرس کہتے ہیں کہ ’یہ ہمارے لیے یقینی ہے کہ 2100 میں لوگ موجودہ عمر کا ریکارڈ توڑ دیں گے اور غالب امکان ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے جو 126، 128 اور یہاں تک کہ 130 سال کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔‘

پیئرس اور پروفیسر آدرین رافٹری آنے والی دہائیوں میں متوقع زندگی کی حدود کا تصور کرنے کے لیے متوقع زندگی سے متعلق عالمی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ 100 فیصد امکان ہے کہ یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا اور 68 فیصد امکان ہے کہ آنے والی دہائیوں میں کوئی اپنی 127ویں سالگرہ منائے گا۔

بڑھاپے کے سوال کو سمجھنا

100 years
Getty Images
فرانسیسی جین کالمنٹ جن کی 1997 میں 122 سال کی عمر میں وفات ہوئی

عمر بڑھنے کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے سائنس کو اب بھی کئی سوالوں کے جواب تلاش کرنے ہیں۔

کنگز کالج لندن کے سنٹر فار ایجنگ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رچرڈ سیوو جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جس کی آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے وہاں معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ دنیا میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی نسبت 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد زیادہ ہیں۔

سیوو بتاتے ہیں کہ ’بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ ہم کتنی دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم عمر بڑھنے کے ٹوٹ پھوٹ میں کتنی تاخیر کر سکتے ہیں اور لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

’اس طرح اگر ہم خوش قسمتی سے بڑھاپے کو پہنچ گئے تو ہم ان برسوں میں دُکھ اور تکلیف کے بجائے زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔‘

ہیلپ ایج، جو کہ دنیا بھر میں بزرگوں کی مدد کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا ایک نیٹ ورک ہے، نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ فلسفہ بزرگوں کو ایک نعمت اور موقع کے طور پر دیکھنے میں مدد کرنے میں بہت اہم ہے۔ ان کے مطابق بزرگوں کو ایک بوجھ اور رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

ہیلپ ایج کے ترجمان ایڈورڈو کلین کہتے ہیں کہ ’یہ مہلک نظریہ جو بڑھاپے کو ایک مسئلے اور المیے کے طور پر بتاتا ہے، گمراہ کن ہے۔‘

’عمر رسیدہ افراد جن کی صحت کی حالت اچھی ہے، وہ مختلف طریقوں سے انسانی معاشروں کے لیے اچھے ثابت ہو سکتے ہیں، بشمول معاشی پہلو سے۔‘

100 years
Getty Images

اس کے علاوہ ملکہ الزبتھ دوم کو مت بھولیں۔ ملکہ برطانیہ کو 96 سال کی عمر میں سو سالہ سمجھا جاتا رہا. ان پر کام کا بوجھ بڑھ گیا تھا کیونکہ برطانیہ میں یہ رواج ہے کہ ملکہ 100 سال کی عمر کے لوگوں کو خط بھیجتی ہے۔

برطانیہ میں بھی سو سالہ افراد کی تعداد 2020 میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور یہ اضافہ جاری ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.