bbc-new

مغربی کنارے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی: بی بی سی کی تحقیقات

فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں ہمارا تجزیہ بی بی سی کی اپنی زمینی کوریج، علاقائی میڈیا کی رپورٹنگ اور غیر سرکاری گروہوں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی رپوٹوں کے ساتھ منسلک سرکاری بیانات سمیت متعدد ذرائع پر مبنی ہے۔
A woman reacts during the funeral of Palestinian Waseem Khalifa (18/08/22)
Reuters

بی بی سی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس برس مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی افواج کے چھاپوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ سے کم از کم 100 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ تعداد اس وقت 100 تک پہنچ گئی جب سنیچر کو مشرقی یروشلم میں ایک 18 برس کے نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسرائیلی فورسزنے مبینہ طور پر جنین میں ایک گھر پر ٹینک شکن میزائل فائر کیا، جس میں ایک گن مین اور تین دیگر افراد ہلاک ہوئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سال سنہ 2015 کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سب سے مہلک سال ثابت ہو رہا ہے۔

اکثریت کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا اور کئی افراد کو مسلح اسرائیلی شہریوں نے ہلاک کیا۔

بہت کم تعداد میں گولی چلانے والوں کی شناخت متازع ہے کہ کیا کسی فلسطینی نے ایسا کیا یا اسرائیل کی طرف سے ایسا ہوا۔ جبکہ فلسطینی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ایک گرفتاریکے لیے مارے جانے والے چھاپے کے دوران ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

جیسا کہ انسانی حقوق کے گروپ بڑھتے ہوئے خطرے کا اظہار کرتے ہیں تو ایسے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں سے تقریباً پانچویں ہلاکت ایک بچے کی ہوئی، جن میں سے سب سے کم عمر 14 سال تھی۔

دریں اثنا امریکہ نے اس ہفتے ایک سات سالہ لڑکے کی بظاہر حرکت قلب بند ہونے سے موت کے بعد فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی فوج صرف اس وجہ سے ان کے آبائی گھر گئی کہ ان کے بھائیوں نے فوجیوں پر پتھراؤ کیا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس لڑکے کی تلاش اور موت کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔

ہلاکتوں کی فہرست میں عسکریت پسند گروپوں کے گن مین، کمسن اور نوجوان شامل ہیں، جنھیں مبینہ طور پر پتھر یا پٹرول بم پھینکنے کے بعد گولی مار دی گئی، غیر مسلح شہری اور راہگیر، مظاہرین اور آبادکاری کے مخالف کارکن، اور وہ افراد جو مبینہ طور پر چاقو سے حملے کرتے ہیں یا اسرائیلی فوجیوں یا عام شہریوں کے خلاف دوسرے ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی مارے جانے والوں کی فہرست کا حصہ ہیں۔

فلسطینی حکامنے اسرائیل پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ اس عرصے میں اسرائیلیوں کے خلاف برسوں میں تشدد کی بدترین لہر بھی دیکھی گئی۔

موسم بہار میں عرب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مہلک حملوں کے نتیجے میں 16 اسرائیلی اور دو غیر ملکی ہلاک ہوئے، جس کے بعد مغربی کنارے میں رات کے وقت فوجی چھاپے مارے گئے کیونکہ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا جارحانہ انداز میں مقابلہ کریں گے۔

ایسی صورتحال نے اب کشیدگی میں کہیں زیادہ اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج پر معمول میں حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور اجتماعی سزا جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جبکہ مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی سکیورٹی فورسز کی اب مسلح گروہوں کے سامنے گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ان مسلح گروہوں کی فائر پاور برسوں بعد بے مثال سطح تک بڑھ گئی ہے۔

جنین اور نابلوس کے گنجان آباد علاقوں میں اسرائیلی افواج کے چھاپوں کے دوران اکثر نوجوان، نئے مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی حکام شمالی مغربی کنارے میں سیکورٹی کی خرابی یا کشیدگی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتے ہیں۔

An armed man attends a funeral of Palestinians killed by Israeli forces in Jenin (28/09/22)
Reuters

ایک بیان میں اسرائیل کی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ جب ’روزانہ پر تشدد فسادات اور دہشت گردی کی کارروائیوں‘ کے جواب میں دیگر تمام آپشنز ختم ہو گئے اس نے لائیو فائر کا استعمال کیا۔

بیان کے مطابق ’آئی ڈی ایف کی کارروائی کے نتیجے میں کسی فلسطینی کی موت کی صورت میں واقعے کی کھوج تک پہنچنے کے لیے عام طور پر ملٹری پولیس نے فوجداری تحقیقات کیں۔ آئی ڈی ایف کے مطابق ایسے واقعات میں جہاں کارروائیاں حقیقی جنگی نوعیت کی تھیں، مجرمانہ تحقیقات فوری طور پر شروع نہیں کی جاتی ہیں۔‘

اگست میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی اس وقت کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے کہا کہ بہت سی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں کی گئیں اور اس کی ایک وجہ احتساب کے فعال نظام کا نہ ہونا ہے۔

فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں ہمارا تجزیہ بی بی سی کی اپنی زمینی کوریج، علاقائی میڈیا کی رپورٹنگ اور غیر سرکاری گروہوں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی رپورٹوں کے ساتھ منسلک سرکاری بیانات سمیت متعدد ذرائع پر مبنی ہے۔

مغربی کنارے میں ہلاک ہونے والا سب سے کم عمر فلسطینی 14 برس کے محمد صلاح تھے، جنھیں فروری کے آخر میں بیت المقدس کے جنوب میں اسرائیل فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔

آئی ڈی ایف نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے سڑک پر پیٹرول بم پھینکے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس نے اسے روکنے کے لیے مہلک طاقت کا استعمال کیوں کیا۔ محمد صلاح کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب اسے گولی مار کر ہلاک کیا گیا تو وہ سڑک کے قریب نہیں تھا۔

سب سے پرانے واقعات میں الگ الگ دو 80 برس کے مرد مارے گئے۔ ان میں سے ایک فلسطینی نژاد امریکی عمر الاسد جنوری میں ایک گاؤں کی تلاشی کے دوران فوجیوں کے ہاتھوں گرفتاری اور ہتھکڑی لگنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔

فوج نے بعد میں کہا کہ اس نے کمانڈ کے عہدوں سے دو افسروں کو معطل کر دیا ہے اور فائل فوجی تفتیش کاروں کو بھیج دی ہے۔

اس سے قبل کے اس سال تشدد کی مہلک لہر اسرائیل میں سر اٹھاتی مارچ کے وسط تک 20 فلسطینی مارے جا چکے تھے۔

Relatives and friends mourn during the funeral of an Israeli killed in an attack in Tel Aviv (08/04/22)
AFP

یہ حملے نام نہاد داعش کے عرب اسرائیلی حامیوں اور جنین کے علاقے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی بندوق برداروں نے کیے تھے۔

سب سے مہلک حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند گروپ الاقصیٰ شہدا بریگیڈز نے قبول کی تھی جبکہ حماس، فلسطینی عسکریت پسند گروپ جو کہ غزہ کی ناکہ بندی کی پٹی پر غلبہ رکھتا ہے، اور اسلامی جہاد نے تعریف کی تھی۔ تینوں کو اسرائیل اور مغرب نے دہشت گرد تنظیموں کے طور پر اندراج کر رکھا ہے۔

اس کے بعد اسرائیلی فوج نے ’آپریشن بریک واٹر‘ شروع کیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے سکیورٹی فورسز کو خطرات کو ختم کرنے کے لیے ’مکمل آزادی‘ دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس جنگ کی کوئی حدیں نہیں ہیں اور نہ ہوں گی۔

'ناہموار جنگ'

100 ہلاکتوں میں سے زیادہ تر کو اسرائیلی فورسز نے تلاشی، گرفتاری اور گھروں کو مسمار کرنے کے تعزیری چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا۔

کل تعداد میں سے نصف سے زیادہ جنین اور نابلوس یا شمالی مغربی کنارے کے آس پاس کے دیہات میں ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً ایک تہائی عسکریت پسند بندوق بردار تھے۔ بہت سے لیکن تمام معاملات میں اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع کے دوران یا اس کے بعد انھیں گولی مار دی، حالانکہ آئی ڈی ایف عملی طور پر کبھی بھی اس کی تفصیل نہیں دیتی کہ کیا ہوتا ہے۔

پورے مغربی کنارے میں، ہلاکتوں کی کل تعداد کا کم از کم ایک چوتھائی اس وقت ہوا جب فوجیوں نے نوجوانوں یا نوعمروں کو گروپوں میں گولی مارنے کے لیے لائیو گولہ بارود کا استعمال کیا۔ ان فلسطینیوں پر پتھر، پیٹرول بم یا دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

جون میں بی بی سی نے جنین میں فوج کے چھاپے کے نتیجے میں دیکھا کہ مبینہ طور پر ہتھیاروں کی تلاشی، جس میں کہا گیا کہ تین عسکریت پسند گروپوں کے بندوق برداروں نے فوجی جیپوں کا تعاقب کیا اور ان پر فائرنگ کی، اس سے پہلے کہ چھت پر ایک اسرائیلی سنائپرنے ان کی کار میں گولی مار کر انھیں ہلاک کر دیا۔

بظاہر پتھر پھینکنے کے بعد کئی نوجوانوں کو گولیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ ہسپتال کے باہر ہجوم نے بدلے یعنی انتقام کا مطالبہ کیا۔

یہ فلسطینی اتھارٹی جس کے پاس فلسطینی شہروں پر حکومت کے محدود اختیارات ہیں، کی طرف سے سکیورٹی کنٹرول کے نظام کی ناکامی کے نتیجے میں ہوا۔

ہم نے جینین پناہ گزین کیمپ میں ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتے دیکھا، عسکریت پسندوں کی نئی جہتیں اور تشکیل نو دیکھی ہے۔ بہت سے ابھی بھی نوعمر ہیں۔

جانے پہچانے مسلح گروہوں کی حمایت میں نوجوان بندوق بردار جنین بریگیڈ میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ نابلوس میں پرانے شہر کی عثمانی دور کی گلیوں میں گشت کرنے والے عسکریت پسند اپنے آپ کو شیروں کی کھچار کہتے ہیں۔

گرمیوں میں اسرائیلی فورسز نے گروپ کے 19 برس کے رہنما ابراہیم النبلسی، یا نابلوس کے شیر کو نشانہ بنایا، جیسا کہ وہ اس کی ٹک ٹاک ویڈیوز سے جانا جاتا تھا۔۔اس رجحان کو دکھانے کے لیے ان کی ٹک ٹاک پر بنائے جانے والی ویڈیوز وائرل ہو جاتی تھیں۔

9 اگست کے اوائل میں فوجیوں نے بغیر نشان والی گاڑیوں پر چھاپہ مارا، ان کے سیف ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا اور ان پر کندھے سے میزائل داغے، جس سے وہ اور ایک اور بندوق بردار ہلاک ہو گئے۔

ال نیبلوسی اسرائیل کو مطلوب تھا۔ چھاپے کے دوران ایک 16 سالہ لڑکے سمیت مزید دو فلسطینیوں کو بھی غیر واضح حالات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

عمارت کے کھنڈرات ایک مزار میں بدل چکے ہیں، جہاں دوسرے بندوق بردار لڑنے کا عہد کرتے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے دفاعی تجزیہ کار اموس ہاریل کے مطابق اسرائیل کی زبردست فوجی برتری کے پیش نظر یہ ایک ’ناہموار جنگ‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے حملوں کے خطرے کو روکنے کے لیے دو چیزیں کیں: انھوں نے اسرائیل کے مغربی کنارے کی علیحدگی کی رکاوٹ کو فوجیوں سے بھر دیا اور بٹالین اور کمانڈو یونٹوں کو فلسطینی شہروں پر چھاپہ مارنے کے لیے تیار کر دیا تاکہ پریونیوٹو (احتیاطی) گرفتاریاں کی جا سکیں۔

اموس ہیرل مارچ میں جنین پناہ گزین کیمپ پر چھاپے کے دوران اسرائیلی فورسز کے ساتھ گئے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’آپ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوانوں کو اسرائیلی جیپوں کے قریب آتے دیکھ سکتے ہیں، کبھی کبھار ان کے پیچھے 20 یا 30 میٹر کے فاصلے پر اور وہ بھی صرف گولی چلاتے ہوئے۔

’یہ حالیہ عرصے سے مختلف رجحان ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو لڑنے کے لیے تیار ہیں اور مرنے کے لیے تیار ہیں۔

'بہت کچھ بدل گیا ہے'

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مغربی کنارے میں 19 فلسطینی بچے مارے جا چکے ہیں۔

زیادہ تر 18 سال سے کم عمر افراد کو اسرائیلی فوجیوں نے فوجی تلاشی اور گرفتاری کے چھاپوں یا قبضے کے خلاف مظاہروں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا۔

ایک فلسطینی لڑکا مبینہ طور پر ایک اسرائیلی فوجی پر ہتھوڑے سے حملہ کرتے ہوئے مارا گیا۔

Mourners carry the body of a Palestinian gunman who was killed by Israeli forces in Nablus (09/08/22)
Reuters

انسانی حقوق کے گروپ ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل (ڈی سی آئی) فلسطین نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اسرائیلی فوج کی طرف سے ’بین الاقوامی اصولوں کی مکمل خلاف ورزی‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔

جولائی میں 16 برس کے امجد نصر کو المغیر گاؤں میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جہاں اسرائیلی آباد کاروں نے غیر قانونی چوکیوں کی تعمیر کے لیے قریبی علاقے کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اکثر کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

فلسطینی اور آباد کار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے، دونوں گروپوں نے پتھراؤ کیا، جب کہ آباد کاروں میں سے کم از کم ایک مشین گن سے مسلح تھا۔

جس لمحے امجد کو نشانہ بنایا گیا اس کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ گولی چلنے کی آواز سنتے ہی بھاگنے لگا۔

قریب ہی ایک فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گولی کس نے چلائی تھی مگر امجد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ آباد کاروں میں سے ایک تھا۔

مزید پڑھیے

اسرائیل فلسطین کشیدگی: 44 ہلاکتوں کے بعد جنگ بندی،امریکہ کا خیر مقدم

اسرائیل فلسطین تنازعے میں کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے

امجد کے والد نشاط نصر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں فوج کی طرف سے کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ امجد کے بغیر زندگی بہت بدل گئی ہے۔ انھوں نے میرا ہاتھ بٹھانے کے لیے اپنا سکول چھوڑ دیا کیونکہ میں کینسر میں مبتلا تھا اور کیموتھراپی کروا رہا تھا۔ وہ مجھ سے پہلے دنیا ہی چھوڑ گیا۔ ان کے مطابق وہ خاندان کی مدد کرتا تھا۔

اس واقعے کے بارے میں پوچھے جانے پر اس وقت اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس قتل کی ’تحقیقات‘ کی جا رہی ہیں، اور ان کی جانب سے بی بی سی کو ایک ویڈیو اور تصاویر بھجوائی گئیں جن میں ایک سڑک سے گزرنے والی اسرائیلی گاڑی پر فلسطینی پتھروں سے حملہ کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی جانب سے اسرائیلی فوج نے ان سوالوں کا جواب نہیں دیا جن میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ اس سب کو امجد نصر کو کسی دوسرے مقام پر گولی مارنے سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے جبکہ وہ سیکیورٹی فورسز سے بھاگ رہے تھے۔

آئی ڈی ایف نے بعد میں کہا کہ ان کی موت کے بارے میں ملٹری پولیس کی تفتیش جاری ہے۔

دریں اثنا جان لیوا واقعات کے بارے میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی خود تحقیقات کرنے کی اہلیت یا رضامندی اس سال تیزی سے سوالیہ نشان بن رہی ہے۔

فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیرین ابو عاقلہ کے جنین میں قتل کے بعد اسرائیلی حکام نے میڈیا کو گمراہ کن بیانات دیے، حتمی اندرونی تحقیقات سے قبل یہ غلط تجویز پیش کی گئ کہ شاید ایک فوجی نے انھیں غلطی سے گولی مار دی ہے کیونکہ ان پر اس وقت اس مقام سے عسکریت پسندوں کی طرف سے فائرنگ کی جا رہی تھی۔

Israeli soldiers check damage in a bus, at the scene of a shooting attack in the Jordan Valley, in the West Bank (04/09/22)
Reuters

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق وہ معمول کے مطابق چھاپوں یا مظاہروں کے دوران اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ’پرتشدد فسادات‘ سے بچانے کے لیے کام کرتی ہیں، جبکہ فوجی اہلکار براہ راست فائر کے استعمال کی اجازت دینے کے لیے اپنی مصروفیت کے قوانین کا دفاع کرتے ہیں۔

دو سال قبل ایک 21 برس کے اسرائیلی فوجی اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب جنین کے قریب ایک چھاپے کے دوران چھت سے اس پر ایک بڑا پتھر پھینکا گیا تھا۔

اس سال مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد میں اسرائیل کی سکیورٹی فورسز کے دو ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان میں سے ایک میجر بار فلاح کو ستمبر میں ’سپریشن بیریئر‘ کے قریب دو فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ فائرنگ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے مغربی کنارے میں شہریوں اور فوج کو نشانہ بنانے والے بندوق کے حملوں کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے ستمبر کے وسط تک یہ تعداد 170 کر دی۔

اسرائیلی حکام نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ آپریشن بریک واٹرنے گذشتہ دو مہینوں میں 550 الگ الگ حملوں کو روکا ہے تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سال کم از کم آٹھ واقعات میں فلسطینی مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کے خلاف کوشش یا مبینہ حملوں کے دوران مارے گئے۔

31 مارچ کو ایک اسرائیلی بس کے مسافر کو افرات کی بستی کے قریب اسکریو ڈرائیور سے وار کیا گیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔ جہاز میں سوار ایک اور اسرائیلی شہری نے مبینہ حملہ آور 30 ​​سالہ فلسطینی ندال جعفرا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

دریں اثنا آئی ڈی ایف کے متواتر چھاپوں میں اپریل سے اب تک 1500 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فلسطینی انسانی حقوق کے گروپ الحق کے ایڈوکیسی آفیسر، عصیل الباجہ، کے مطابق اسرائیل کی کارروائی کے مجموعی اثر ایسا ہی ہے کہ جیسے ’پورے خطے پر اجتماعی سزا‘ مسلط کر دی گئی۔

ان کے مطابق نقل و حرکت پر مزید پابندیوں، اسرائیل کے لیے فوجی چوکیوں کی بندش، کام سے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے بغیر کسی مقدمے کے اجازت نامے اور حراستیں اس کی مثال ہیں۔

بہت سے فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کی موت کے بارے میں واضح وضاحت کے منتظر ہیں۔

Omar, child of Palestinian woman Ghada Sabatien who was shot by an Israeli soldier on 10 April
AFP

ایک 47 برس کی بیوہ غدا سبطین کو ایک اسرائیلی فوجی نے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا جب آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے ’رکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا‘۔ یہ واقعہ دس اپریل کو بیت المقدس کے قریب حسین گاؤں میں پیش آیا۔

وہ غیر مسلح تھیں اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ بصارت سے محروم تھیں۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس کے بعد اس نے ان کی موت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطینی مسلح گروپوں کے ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی موجودہ تحقیقات میں اس سال کے بہت سے مقدمات کو شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگست میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور اسلامی جہاد کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران 49 فلسطینی بھی مارے گئے تھے۔

ان 100 ہلاکتوں کی فہرست میں وہ فلسطینی شامل نہیں جو اس سال اسرائیل کے اندر حملے کرتے ہوئے مارے گئے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.