’فری میں کھانا‘، شادی میں بن بلائے مہمان سے برتن دھلوانے کی ویڈیو وائرل

image
انڈیا میں بغیر دعوت کے شادی کی تقریب میں گھس کر کھانا والے نوجوان سے برتن دھلوائے گئے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق نوجوان ایم بی اے کا طالب علم ہے جو مدھیہ پردیش میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں بغیر دعوت کے شامل ہوا تھا اور اس نے وہاں کھانا کھایا۔

تاہم وہ جلد ہی تقریب کے میزبانوں کی نظر میں آ گئے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس کی طرف سے آئے ہیں تو واضح جواب نہ دے سکے۔

اس کے بعد ان کو سزا کے طور پر برتن دھونے پر مجبور کیا گیا۔

انڈین نیوز چینل ’آج تک‘ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والی ویڈیو میں نوجوان کو برتن دھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان کا چہرہ بلر کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں ایسے لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جو نظر نہیں آ رہے۔

ان میں سے ایک شخص نوجوان سے غصے میں پوچھتا ہے کہ کس لیے آئے تھے ادھر؟

جس پر نوجوان جواب دیتا ہے کہ ’کھانا کھانے آیا تھا۔‘

MBA स्टूडेंट बिना बुलाए शादी में खाना खाने पहुंच गया. पकड़े जाने के बाद जनातियों ने उससे प्लेट धुलवाईं. इतना ही नहीं उसका वीडियो बनाकर वायरल कर दिया गया. इंटरनेट पर तेजी से वायरल होता यह वीडियो मध्य प्रदेश के भोपाल का बताया जा रहा है. #ATDigital #MadhyaPradesh pic.twitter.com/HZSGcd4LoA

— AajTak (@aajtak) December 1, 2022

اس کے بعد پھر وہی شخص پوچھتا ہے کہ کسی نے بلایا تھا اور جواب نہ ملنے پر کہتا ہے ’فری میں آ گئے تھے، تمہیں معلوم ہے فری میں کھانا کھانے کی سزا کیا ہے۔‘

اس کے بعد پوچھا جاتا ہے کہ ’پلیٹیں دھوتے ہوئے کیسا محسوس کر رہے ہو؟‘

جس پر طالب علم جواب دیتا ہے کہ ’فری میں کھانا کھایا ہے، کچھ تو کرنا پڑے گا نا سر۔‘

اس دوران طالب علم سے ڈانٹ ڈپٹ بھی جاری رہتی ہے اور ’درست طور پر‘ برتن دھونے کا کہا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین اسے شیئر کرتے ہوئے تبصرے کر رہے ہیں اور اس اقدام کو ’توہین آمیز‘ قرار دے رہے ہیں۔

زیادہ تر صارفین نے واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے شہروں سے آ کر ہوسٹلز میں رہنے والے طالب علم اکثر ایسا کرتے ہیں اور تقاریب میں جا کر کھانا کھاتے ہیں تاہم ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا اچھی بات نہیں ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.