bbc-new

پاکستان اور انڈیا میں فٹبال کی جگہ کرکٹ کیوں مقبول ہوئی اور اس میں برطانیہ کا کیا کردار ہے؟

فٹبال یا ساکر دنیا کا سب سے مقبول کھیل سمجھا جاتا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ برطانوی راج کے بعض نوآبادیاتی علاقوں میں کرکٹ کو پسند کیا جاتا ہے تو کچھ میں فٹبال۔۔۔
فٹبال
Getty Images

فٹبال دنیا کے سب سے مشہور کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کھیل کا آغاز بنیادی طور پر سنہ 1863 میں انگلینڈ کے ایک پب میں ہوا جب چند لوگوں نے پیروں کی مدد سے کھیلے جانے والے اس مقبول کھیل کے اصول طے کیے اور اسے فٹبال سے ملتے جلتے کھیل رگبی سے پوری طرح الگ کر لیا۔

آئندہ آنے والی چار دہائیوں میں فٹبال نے دنیا بھر کے کئی ملکوں میں اپنی پہچان بنا لی۔ اس کھیل کے پھیلاؤ کی ایک وجہ برطانوی راج تھا جو اس وقت زمین پر طاقتور عالمی قوت تھی اور دنیا کے بڑے حصے پر قابض تھی۔

تاہم سابقہ برطانوی راج کے کئی خطوں میں فٹبال اتنا مقبول نہ ہوسکا جتنے دیگر کھیل۔ مثلاً آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں فٹبال سے زیادہ مقبول رگبی ہے جبکہ انڈیا اور پاکستان (جو برطانیہ ہی کی کالونیاں تھیں) میں کرکٹ زندگی کا اہم حصہ ہے۔

کھیلوں کے تاریخ دان جین ولیمز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب برطانوی آسٹریلیا یا انڈیا پہنچے تو انگلینڈ کا قومی کھیل کرکٹ تھا، نہ کہ فٹبال۔ اور رگبی ان اشرافیہ کا من پسند کھیل تھا جنھیں ان خطوں پر حکمرانی کے لیے بھیجا جاتا تھا۔‘

ولیمز وضاحت کرتے ہیں کہ اسی دوران برطانیہ میں مڈل کلاس اور ورکنگ کلاس (ملازمت پیشہ طبقہ) کا پسندیدہ کھیل فٹبال یا ساکر تھا۔

ولیمز نشاندہی کرتے ہیں کہ ’دنیا بھر میں فٹبال کی مقبولیت کی دو وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ برطانوی انجینیئرز کی جانب سے بنائی گئی ریلوے لائنز کا پھیلاؤ۔ دوم یہ کہ دوسرے ملکوں کے لوگوں کے ساتھ تعلیمی تبادلہ، خاص کر لاطینی امریکہ اور ایشیا میں۔‘

رگبی
Getty Images

برطانوی راج کے دو بڑے کھیل: کرکٹ اور رگبی

18ویں صدی میں کرکٹ انگلینڈ کا قومی کھیل بن گیا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب برطانوی راج اپنے عروج پر تھا۔

مگر ایک دوسرا کھیل بھی اپنی مقبولیت قائم کیے ہوئے تھے: یعنی رگبی جس کے بارے میں کئی دہائیوں تک کہا جاتا رہا کہ یہ ’جینٹل مین کا وحشیانہ کھیل ہے۔‘

ولیمز کہتے ہیں کہ ’یہ کھیل اس وقت کا امیر طبقہ اور رہنما کھیلتے تھے۔ آسٹریلیا، انڈیا اور جنوبی افریقہ جیسے خطوں میں ان کھیلوں کو باقاعدہ طور پر متعارف کرایا گیا۔‘

مگر اس سے پہلے ہی 18ویں صدی کے دوران برطانوی تاجر انڈیا میں کرکٹ لا چکے تھے مگر 19صدی میں برطانوی راج کے قبضے کے بعد اسے آفیشل انداز میں متعارف کرایا گیا جہاں سے اس کی مقبولیت بڑھی۔ اور آج انڈیا اور پاکستان میں کرکٹ بظاہر سب سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔

کرکٹ
Getty Images

رگبی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اس نے 19ویں صدی کے وسط میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ سمیت دیگر علاقوں میں مقبولیت حاصل کی۔

تاریخ دان پیٹرک ہچیسن نے اپنی تحریر ’سپورٹس اینڈ برٹش کلونیئل ازم‘ میں درج کیا ہے کہ ’برطانوی راج میں کھیل اتحاد پیدا کرنے والی قوت تھے جو اکثر قوم پرستی میں جڑے رہتے تھے اور کھیلوں میں سماجی و سیاسی جدوجہد کی جھلک ملتی تھی۔‘

اسی اثر و رسوخ نے انڈیا، پاکستان اور آسٹریلیا کو کرکٹ پسند کرنے والے ملکوں میں بدلا۔ جبکہ رگبی میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور سابقہ برطانوی نوآبادیاتی علاقے عالمی چیمپیئن بن گئے۔

آسٹریلیا میں سب سے مقبول آسٹریلین رولز فٹبال یا آسٹریلوی فٹبال ہے جو کہ دراصل کرکٹ، رگبی اور فٹبال کا میلاپ ہے۔ یہ انگلش رگبی یونین سے ملتا جلتا ہے۔

تو فٹبال ان ملکوں میں کیوں پیچھے رہ گیا؟

دوسری طرف فٹبال کی دو خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے یہ ان علاقوں میں اس قدر مقبول نہیں: اس کے قوانین 1863 اور اس کے بعد طے کیے گئے اور یہ برطانوی مڈل کلاس اور ورکنگ کلاس کے لوگ زیادہ پسند کرتے تھے۔

ولیمز کہتے ہیں کہ ’جب تک برطانیہ میں فٹبال ایک مقبول کھیل بنا، کرکٹ اور رگبی پہلے ہی نوآبادیاتی علاقوں میں مقبول ہو چکے تھے اور یہ ہمیشہ سے اپر کلاس اور اشرافیہ کا پسندیدہ کھیل تھے۔‘

تاہم برطانوی سامراج نے اپنے افریقی نوآبادیاتی علاقوں میں فٹبال کو بھی ’اتحادی قوت‘ کے طور پر استعمال کیا۔

ہچیسن نے کہا کہ ’زنجبار، مصر اور دوسرے نوآبادیاتی علاقوں میں کھیلوں کے ذریعے کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے مختلف لیگز کرائی جاتی تھیں۔ فٹبال کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔‘

مگر فٹبال مزید طریقوں سے بھی پھیلتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

آمرانہ حکومتیں اور فیفا کی متنازع تاریخ

پہلی آل انڈیا کرکٹ ٹیم کے قیام کی کہانی

فٹبال یورپ میں کیسے پھیلا اور امریکہ میں قدرے کم کیوں کھیلا جاتا ہے؟

20ویں صدی کے آغاز میں بھی برطانوی راج ایشیا، افریقہ اور کیریبین تک پھیلے اپنے علاقوں میں عالمی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

مگر یورپ بھر میں فٹبال برطانوی شہریوں کا جرمنی، فرانس، اٹلی، سپین اور دیگر یورپی ملکوں میں جانے سے مقبول ہوا۔

ریلوے چونکہ ایک برطانوی ایجاد تھی اس لیے دوسرے علاقوں میں اس کی تعمیر بھی اثر و رسوخ کا ایک ذریعہ تھی۔

تاریخ دان کے مطابق ’کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ریلوے کے ملازم دنیا بھر میں فٹبال اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسا انجینیئرز کی مدد سے ہوا کیونکہ انگلینڈ میں فٹبال مڈل کلاس کا کھیل تھا۔‘

ولیمز کے مطابق ان لوگوں نے دوسرے علاقوں میں فٹبال کھیل کر اس کا اثر و رسوخ پیدا کیا اور وہ دوسرے ملکوں میں اسے سکھانے اور اس کی تنظیمیں بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے اشرافیہ نوآبادیاتی علاقوں میں اپنے ساتھ کرکٹ اور رگبی لے گئے تھے۔

20ویں صدی کے آغاز میں برازیل، ارجنٹائن اور یوراگوئے جیسے ملکوں میں فٹبال کلبز کا قیام عمل میں آیا۔ ان میں سے کئی کے انگریزی نام رکھے گئے جو آج بھی برقرار ہیں جیسے ارجنٹائن میں ریور پلیٹ اور بوکا جونیئرز، یوراگوئے میں کلب نیشنل دی فٹبال اور برازیل میں فلومنینس ایف سی۔

ولیمز بتاتے ہیں کہ ’فٹبال کی نمایاں بات یہ تھی کہ یہ طبقات میں بٹا ہوا نہیں، اس لیے یہ تمام سطحوں پر مشہور ہوا۔‘ان کا کہنا ہے کہ ریلوے وہ واحد طریقہ نہیں تھا جس سے فٹبال دنیا بھر میں پھیلا۔ لوگ برطانیہ میں کاروبار اور تعلیم کے لیے آتے تھے اور یہ بھی کھیلوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔

ولیمز نے کہا ہے کہ ’لاطینی امریکہ اور ایشیا سے کئی لوگ انگلش یونیورسٹیوں میں آئے اور اسے مقبول کھیل پا کر اسے اپنے ساتھ واپس لے گئے۔‘

مثال کے طور پر کولمبیا کے مشہور کلبز میں سے ایک دیپورتیوو کالی کی بنیاد نزاریو برادران نے رکھی جنھوں نے 20ویں صدی کے دوران انگلینڈ میں پانچ سال گزارے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’فٹبال کا جنم انگلینڈ میں ہوا اور اس نے برطانوی راج سے باہر رہنے والوں کو بھی متاثر کیا۔ اس وجہ سے کئی فٹبال کلب ان لوگوں نے قائم کیے جو باہر سے برطانیہ آئے تھے۔‘

مگر امریکہ اور کینیڈا میں برطانوی اثر و رسوخ کے باوجود یہاں فٹبال اس طرح سے مشہور نہ ہو سکا۔ مؤرخ جیمز براؤن نے کہا ہے کہ ’فٹبال نے کئی بار امریکی تہذیب کا حصہ بننے کی کوشش کی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اس کے اصول اور گول کرنے کے اعداد و شمار وہ چیزیں تھیں جس نے اسے زیادہ مشہور نہ ہونے دیا۔‘

ان کے مطابق امریکیوں کو وہ کھیل پسند ہیں جن میں زیادہ بڑے نمبرز شامل ہوتے ہیں۔ ’لیکن سچ یہ ہے کہ 16 سال کی عمر تک اس ملک کے نوجوان ساکر کھیلتے ہیں۔ تو یہاں اس کا مستقبل دیکھا جاسکتا ہے۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.