اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے

Poet: احمد فرازؔBy: ایاز, Karachi

اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
بول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئے

کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہم
کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیئے

وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر
گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیئے

اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے
جس سمت بھی ہو گرد سفر جانا چاہیئے

کچھ تو ثبوت خون تمنا کہیں ملے
ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیئے

یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے
یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیئے

Rate it:
Views: 244
14 Jan, 2022