بھائیوں میں فساد کیا کروں میں

Poet: مزدوم خانBy: مزدوم خان, Karachi

بھائیوں میں فساد کیا کروں میں
باپ کی جائیداد کیا کروں میں

جن میں چپ رہنے کی نصیحت ہو
ایسے شعروں پہ داد کیا کروں میں

لوگ محفوظ ہیں مرے دم سے
اور کیسا جہاد کیا کروں میں؟

اپنے ہاتھوں سے چوری ہو چکا ہوں
آپ پر اعتماد کیا کروں میں

سینے جیسا کوئی سفینہ نہیں
ناخداؤں کو یاد کیا کروں میں

میں اُسے کامیاب لگ رہا ہوں
اور اُسے نامراد کیا کروں میں

یاد تو کر لوں میں تجھے لیکن
یاد کرنے کے بعد کیا کروں میں؟

Rate it:
Views: 158
09 May, 2022