تھانے میں کتنے لوگ کہ لاک اپ نشیں رہے

Poet: سرور فرحان سرورؔ
By: سرور فرحان سرورؔ, Karachi

تھانے میں کتنے لوگ کہ لاک اَپ نشیں رہے
کُچھ اُن میں با اثر تھے، کُچھ کمّی کمیں رہے

چور، ڈکیت، قاتل یا بَلوائی، اغوا کار
کتنے ہی “ماہرین“ کہ یاں کے مَکیں رہے

کتنوں کو ہم نے چھوڑا، سفارش کے زور پر
کتنے ہی تھے جو نوٹ سے “مُجرم“ نہیں رہے

لیڈر، عوام، اچھے، بُرے، معصوم، خطا کار
کس کس کا پُوچھتے ہو کہ اکثر یہیں رہے

کتنی ہی بار ہم نے سجایا ڈرائنگ رُوم
چھِتر ہمارے تھانے کے از حد حسیں رہے

کتنے ہی راز، راز رہے، کروا کے مُٹھی گرم
دیوار و دَر اِس تھانے کے سب کے امیں رہے

اِک بار مہماں بن کے گر پہنچا کوئی یہاں
خاطر نہ بھُولے عمر بھر، چاہے کہیں رہے

جانے کیوں شُرفا ڈرتے ہیں تھانے کے نام سے
تھانے تو سب کے واسطے خَندہ جبیں رہے

سرور تو بے وجہ ہی ہیں بد ظن پولیس سے
جب دیکھئے یہ صاحب ہم پہ نُکتہ چِیں رہے

Rate it:
07 Mar, 2013

More Funny Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: Sarwar Farhan Sarwar
I have been teaching for a long time not because teaching is my profession but it has been a passion for me. Allah Almighty has bestowed me success i.. View More
Visit 95 Other Poetries by Sarwar Farhan Sarwar »