جان سے عشق اور جہاں سے گریز

Poet: احمد فرازBy: Dua Nasir, Sialkot

جان سے عشق اور جہاں سے گریز
دوستوں نے کیا کہاں سے گریز

ابتدا کی تیرے قصیدے سے
اب یہ مشکل کروں کہاں سے گریز

میں وہاں ہوں جہاں جہاں تم ہو
تم کرو گے کہاں کہاں سے گریز

کر گیا میرے تیرے قصے میں
داستاں گو یہاں وہاں سے گریز

جنگ ہاری نہ تھی ابھی کہ فرازؔ
کر گئے دوست درمیاں سے گریز

Rate it:
Views: 1645
19 Jun, 2021