جنت کی اس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

Poet: Wasim ahmad Moghal
By: Wasim Ahmad Moghal, Lahore

جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے

شبنم کے موتیوں سے شعلے نکل رہے ہیں
اِس وادیءِ حسیں کے سب پھول جل رہے ہیں
جس سمت میں بھی دیکھو سب کچھ سُلگ رہا ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

وادی کے باغ سارے خوں رنگ ہو گئے ہیں
دنیا کے سارے ظالم اِک سنگ ہو گئے ہیں
چشموں کے سارے جھرنے کیوں خوں اُگل رہے ہیں
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

کتنے حسین بچے ٹینکوں سے کٹ گئے ہیں
وادی کےسارے میداں لاشوں سے اَٹ گئے ہیں
جسموں سے کتنی روحیں آزاد ہو گئی ہیں
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

برفانی چوٹیاں بھی خوں میں چھُپی ہوئی ہیں
شہروں کی ساری سڑ کیں خوں سے دھُلی ہوئی ہیں
نیلم کا نیلا پانی کیوں سرخ ہو گیا ہے
کشمیر پو چھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے
ماں اور بیٹیوں کی عزت پکارتی ہے
کشمیریوں کے خوں کی عظمت پکارتی ہے
بہنوں کے سر کی چادر کیوں کھینچی جا رہی ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

کوئی تو ہو جہاں میں جو ظلم کو مٹائے
ظالم کا ہاتھ توڑے مظلوم کو بچائے
کشمیر کا مسلماں کیوں ظلم سہہ رہا ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

ساتھی جو تھے ہمارے کیا ڈر گئے ہیں یارو
اہلِ ضمیر سارے کیا مر گئے ہیں یارو
انسانیت کہاں ہے انسانو کچھ تو بولو
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

آؤ خدا کے آگے ہم اپنا سرجھکائیں
اٹھو جہاد سے ہم کشمیر کو بچائیں
جنت میں کفر ظالم کیوں تن کے رہ رہا ہے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

جذبہ شہادتوں کا ہر دل میں موجزن ہے
پیشِ نظر ہمارے آزادی ءِ وطن ہے
یہ سر ہمارا لوگو کیا خَم ہوا کسی سے
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

آزادی ءِ وطن ہے اسلام ہی کی خاطر
اور زندگی ہے اپنی اِس کام ہی کی خاطر
کتنے سپوت میرے قربان ہو گئے ہیں
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

کوئی تو ظلمتوں میں روشن کرے دیوں کو
امید کی کرن سے گر مائے جو دلوں کو
اے قوم ابنِ قاسم تیرے کدھر گئے ہیں
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

کلیوں کی ساری شوخی برہم سی ہو گئی ہے
چندا کی چاندنی بھی مدھم سی ہو گئی ہے
تارے فلک کے سارے روپوش ہو گئے ہیں
کشمیر پوچھتا ہے کشمیر کہہ رہا ہے
جنت کی اِس جبیں سے کیوں خون بہہ رہا ہے

 

Rate it:
30 Sep, 2019

More Pakistan Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Wasim Ahmad Moghal
Visit 164 Other Poetries by Wasim Ahmad Moghal »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City