خشک ہو گئیں نہریں پیڑ جل چکے ہیں کیا

Poet: Samina Raja
By: ebtisam, khi

خشک ہو گئیں نہریں پیڑ جل چکے ہیں کیا
کچھ چمن تھے رستے میں دشت ہو گئے ہیں کیا

ایک ایک سے پوچھا ہم نے ایک وحشت میں
زندگی کے بارے میں آپ جانتے ہیں کیا

التفات مشکل ہے بات تو کیا کیجے
ہم نہیں برے اتنے اتنے ہی برے ہیں کیا

اپنی زندگانی کو اور رائیگانی کو
ہم اٹھائے پھرتے ہیں لوگ دیکھتے ہیں کیا

یوں ہی آتے جاتے ہو بے سبب ستاتے ہو
سنگ تو نہیں ہیں ہم راہ میں پڑے ہیں کیا

خواب دیکھنے والے معتبر ہوئے کیسے
یہ پرانے سکے یاں پھر سے چل رہے ہیں کیا

صبر کر لیا جائے اب بھی جانے والوں پر
پہلے جانے والے بھی واپس آ سکے ہیں کیا

ہم نے اک تمنا کا راستہ چنا تو ہے
ایک راستے میں بھی اور راستے ہیں کیا

اشتیاق کتنا تھا اور فراق کتنا تھا
جانے پوچھتے ہیں کیوں جانے پوچھتے ہیں کیا

جب رہا نہ کچھ چارہ ہم نے ہار مانی تھی
بس یہی کہانی تھی آپ رو پڑے ہیں کیا

Rate it:
28 Nov, 2019

More Samina Raja Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Owais Mirza
Visit Other Poetries by Owais Mirza »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City