عید کارڈ

Poet: احمد فرازBy: ساجد حمید, Islamabad

تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا
مر مر کر یہ زہر پیا ہے

چپ رہنا آسان نہیں تھا
برسوں دل کا خون کیا ہے

جو کچھ گزری جیسی گزری
تجھ کو کب الزام دیا ہے

اپنے حال پہ خود رویا ہوں
خود ہی اپنا چاک سیا ہے

کتنی جانکاہی سے میں نے
تجھ کو دل سے محو کیا ہے

سناٹے کی جھیل میں تو نے
پھر کیوں پتھر پھینک دیا ہے

Rate it:
Views: 198
09 May, 2022