فردِ عمل کو میری شریفانہ کر دیا

Poet: Naveed Siddiqui
By: Naveed Siddiqui,Lodhran, Lodhran

فردِ عمل کو میری شریفانہ کر دیا
جب پیش میں نے "پُلس" کو نذرانہ کر دیا

بیگم کا جیب خرچ بڑھانے کے واسطے
کم اس نے والدین کا ماہانہ کر دیا

داڑھی میں آ گئے ہیں ابھی سے سفید بال
نزلے نے میرا حال بزرگانہ کر دیا

اسکول میں پڑھاتا ہے ڈنڈے کے زور پر
ٹیچر نے "علم خانے" کو اک" تھانہ" کردیا

رویا کچھ ایسے ایک بڑی شاعرہ کا طفل
ماحول بزمِ شعر کا بچگانہ کر دیا

کھل جائے نہ کسی پہ مرا حال ِغم کہیں
یہ سوچ کر سخن کو ظریفانہ کردیا

منہ کھولتے ہوئے ترے ابا کے سامنے
"ہم نے حقیقتوں کو بھی افسانہ کردیا"

اس دورِ ارتقا نے کیا آخرش غضب
سلطاں کو ڈاکٹرز نے سلطانہ کر دیا

پہلے بھی جان لیوا تھے بیگم کے خال وخط
میک اپ نے ان کو اور بہیمانہ کردیا

نہ بن سکا پلاؤ تو چینی بکھیرکر
اس نے تمام دیگ کو "شَکرانہ"کردیا

ہے گھن گرج تو خوب پر آتا نہیں سمجھ
انداز اس نے اپنا خطیبانہ کر دیا

کاری گری دکھائی ہے معمار نے عجب
نقشہ مکاں کا خانہ بدوشانہ کر دیا

ہے پائے کا ادیب کہ جس نے بصد سعی
مہمل علامتوں کو بھی افسانہ کر دیا

میں نے کہا نوید"محبت سے دیکھیے"
جاناں نے سرہلا دیا،نہ،نہ،نہ کر دیا

Rate it:
13 Jan, 2014

More Funny Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: Naveed Siddiqui
Visit 19 Other Poetries by Naveed Siddiqui »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City