لوری

Poet: محمد قمر عباس
By: Muhammad Qammar Abbas, Layyah

مجھے لوری سنا دے نہ
مجھے پھر اک دفعہ اپنے سینے سے لگا لے نہ
کہ جیسے بچپن میں تو مجھ کو نہلایا کرتی سنوارا کرتی
لوری سنا کے سلایا کرتی
مگر میں جانتا ہوں کہ
بڑا اب ہو گیا ہوں میں
تجھے شکایت رہتی ہے
میری بدنام دوستی سے
میری بے نام خواہشوں سے
اور اکثر الجھ سی جاتی ہے
میری ان سب باتوں میں
تو کیوں مجھ سے کہتی ہے بڑا اب ہو گیا ہے تو
تجھے میری اب کیا ضرورت ہے
خور ہی نہا سکتا ہے تو
خود ہی بن سنور کر ارام سے جا سکتا ہے تو
مگر تو سن اے میری ماں
تیرا قمر تیرے لیے آج بھی وہی معصوم بچہ ہے
جسے نہلایا کرتی تھی جسے سنوارا کرتی تھی
جسے لوری سنا کے پیار سے سلایا کرتی تھی
اور یہ تجھ بن آج بھی بہت ادھورا ہے

Rate it:
23 Dec, 2019

More Mother Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Muhammad Qammar Abbas
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City