لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے

Poet: منور راناBy: فیضان تنویر, Delhi

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

اچھلتے کھیلتے بچپن میں بیٹا ڈھونڈتی ہوگی
تبھی تو دیکھ کر پوتے کو دادی مسکراتی ہے

تبھی جا کر کہیں ماں باپ کو کچھ چین پڑتا ہے
کہ جب سسرال سے گھر آ کے بیٹی مسکراتی ہے

چمن میں صبح کا منظر بڑا دلچسپ ہوتا ہے
کلی جب سو کے اٹھتی ہے تو تتلی مسکراتی ہے

ہمیں اے زندگی تجھ پر ہمیشہ رشک آتا ہے
مسائل سے گھری رہتی ہے پھر بھی مسکراتی ہے

بڑا گہرا تعلق ہے سیاست سے تباہی کا
کوئی بھی شہر جلتا ہے تو دہلی مسکراتی ہے

Rate it:
Views: 64
24 Nov, 2021