میری ماں کا دکھ

Poet: Saba Hassan
By: saba Hassan, Lahore

آج پروین شاکر کی بائیسویں صلیب پڑھ کر
جانے کس رنج نے آنکھ بھر دی میری
کس قدر دکھ مشترک ہیں ہم دونوں کے
وہ رنجیدہ ہے جنم دن پر اپنے
چین مجھ میں بھی نہیں یوم پیدائش پہ
نام دیتی ہی ہر سالگرہ کو صلیب کا وہ
میں نے اسکا نام ننگی تلوار رکھا ہے
لا خدا کرتی ہے خود کو صلیب پہ اس دن
مجھے اس دن کی تیز دھار لہو رلاتی ہے
اسکی وہ صلیب با اسویں تھی بس
اور میرے زخم پچیس ہزار ہیں ابّ تک
وہ اک کونپل تھی مہک تھی اپنی ماں کی
میں بھی ہوں لیکن دل کے ایک کونے میں
دکھتی رگ ہوں غم ہوں اپنی ماں کا
چاہتی ہوں کے مجھے ہر پل ہنستا ہوا دیکھے ہر دم
اف ................ مگر یہ خاهش دل میں دبا لیتی ہے
آج پچیس کی ہوں کل پچپن کی بھی ہونگی
کل نہ یہ دور ہوگا نہ یہ عمریں ہونگی
خدا کرے میری ماں ہو اور یہ ذات ہو پچیس برس بعد بھی
آنچل ہو اسکا دنیا ہو اور اسکی خا ہشات بھی
سب کچھ ہو مگر روگ نہ ہو عمروں کا
عمریں ہوں مگر سکھ ہوں عمروں سے بڑھکر

Rate it:
29 Apr, 2015

More Mother Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: saba hassan
“Good friends, good books, and a sleepy conscience: this is the ideal life.” .. View More
Visit 96 Other Poetries by saba hassan »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City