وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چوما

Poet: قمر آسیBy: محمد رضوان, Islamabad

وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چوما
منزلوں نے تبھی بڑھ کر مرا تلوا چوما

دی مؤذن کو دوا نیند کی اور پھر کل شب
ہم نے جی بھر کے تمہیں خواب میں دیکھا چوما

جس طرح قیمتی شے کو کوئی مفلس دیکھے
آنکھوں آنکھوں میں اسے ہم نے سراہا چوما

ہم نے سوچا تھا کہ سیرابی میسر ہوگی
تشنگی اور بڑھی ہے اسے جتنا چوما

ایک مصرعے میں سنو وصل کا پورا قصہ
از عشا تا بہ سحر یار کو چوما چوما

اس طریقے سے نہیں پیار جتایا مجھ سے
جس طریقے سے ہے اس نے مرا بچہ چوما

یہ بدن دشت سے گلشن ہوا آخر کیسے
آنکھ چومی ہے کسی کی کہ ہے دریا چوما

میری آنکھوں کے اجالوں کا سبب ہے اتنا
نام سنتے ہی محمد کا انگوٹھا چوما

ٹھیک ہونے نہ دیا زخم محبت آسیؔ
ہم نے تا عمر اسے دل سے لگایا چوما

Rate it:
Views: 179
07 May, 2022