ٹکڑوں سے اپنے دل کے جدا ہو گئی ہے ماں

Poet: نگہت نسیمBy: سلمان علی, Multan

ٹکڑوں سے اپنے دل کے جدا ہو گئی ہے ماں
یوں لگ رہا ہے جیسے بہت رو گئی ہے ماں

صورت کو تیری دیکھنا ممکن نہیں رہا
یہ بیج کیا جدائی کا تو بو گئی ہے ماں

اہل ادب بے حس ہیں خدایا دہائی ہے
ان کے گنہ کا بوجھ مگر ڈھو گئی ہے ماں

بچے یہ پوچھتے ہیں خلاؤں میں گھور کر
کل تک یہاں تھی آج کہاں کھو گئی ہے ماں

فرزانہ تیرے بچوں کو نگہتؔ بتائے گی
تھک کر مسافتوں سے سنو سو گئی ہے ماں

Rate it:
Views: 149
07 May, 2022