ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے

Poet: جونؔ ایلیاBy: ساجد ہمید, Multan

ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا؟ یہ تو بتاتے جایئے

جاتے جاتے آپ اِتنا کام تو کیجے مرا
یاد کا سارا سروساماں جلاتے جایئے

رہ گئی امّید تو برباد یو جاؤں گا میں
جایئے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جایئے

وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اُس گلی میں جایئے تو لڑکھڑاتے جایئے

آپ کو جب مجھ سے شکوہ ہی نہیں کوئی، تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے؟ لگاتے جایئے

آپ کا مہمان ہوں میں، آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروّت تو پلاتے جایئے

ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اِس گھر میں جانانہ لگاتے جایئے

Rate it:
Views: 896
15 Dec, 2021