تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے

Poet: تہذیب حافیBy: Aqsa, Sialkot

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے
یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے

اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب
وہ روشنی کی بات کرے اور دیا جلے

تم چاہتے ہو تم سے بچھڑ کے بھی خوش رہوں
یعنی ہوا بھی چلتی رہے اور دیا جلے

کیا مجھ سے بھی عزیز ہے تم کو دیے کی لو
پھر تو میرا مزار بنے اور دیا جلے

سورج تو میری آنکھ سے آگے کی چیز ہے
میں چاہتا ہوں شام ڈھلے اور دیا جلے

تم لوٹنے میں دیر نہ کرنا کہ یہ نہ ہو
دل تیرگی میں گھیر چکے اور دیا جلے

Rate it:
Views: 3038
02 Jul, 2021