دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

Poet: علامہؔ اقبالBy: ساجد ہمید, Rawalpindi

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دلِ ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی

متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں‌ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے
وہی آب و گلِ ایراں وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سلطانی
بہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی

Rate it:
Views: 550
12 Jan, 2022