قوموں کے ليے موت ہے مرکز سے جدائي

Poet: علامہ اقبالBy: Anila, Sialkot

قوموں کے ليے موت ہے مرکز سے جدائي
ہو صاحب مرکز تو خودي کيا ہے ، خدائي!

جو فقر ہوا تلخي دوراں کا گلہ مند
اس فقر ميں باقي ہے ابھي بوئے گدائي

اس دور ميں بھي مرد خدا کو ہے ميسر
جو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائي

در معرکہ بے سوز تو ذوقے نتواں يافت
اے بندئہ مومن تو کجائي ، تو کجائي

خورشيد ! سرا پردئہ مشرق سے نکل کر
پہنا مرے کہسار کو ملبوس حنائي

Rate it:
Views: 486
13 Aug, 2021