تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

Poet: پروین شاکرBy: محمد رضوان, Islamabad

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بچپنے کا ساتھ ہے پھر ایک سے دونوں کے دکھ
رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں اور
کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارش سنگ ملامت میں بھی وہ ہم راہ ہے
میں بھی بھیگوں خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کسان
جسم اور اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

Rate it:
Views: 1699
27 Dec, 2021