خواب بیچ آیا هوں

Poet: F.N.TariqBy: F.N.Tariq, Chakwal

میں اپنے خواب بیچ آیا هوں
هوس سے بھری دنیا میں
نفرت سے پر وجود لیے پھرنے والو
میرے گھر کو بے بسی کی بھینٹ چڑھا کر
کرگس کی طرح ماس نوچ کر کھانے والو
ابھی بهت سے من میت باقی هیں
لهو کا بازار گرم کرنے والو
ابھی تمهارے راستے میں بهت سی دیواریں باقی هیں
اهل وطن جو خواب دیکھنا بھول گئے هیں
ان کو اپنے لهو سے سینچے
کچھ خواب دان کیے هیں
میری نیند سے بوجھل خالی آنکھیں بتاتی هیں
میں اپنا سب کچھ وار آیا هوں
میں اپنے خواب بنا دام هی بیچ آیا هوں
تاکه وه میری آئنده نسلوں کی کچی نیندوں میں
انکے دم توڑتے حوصلوں میں نیا ولوله پیدا کر سکیں
میرے تھک کر شهر خموشاں میں سونے کے بعد
نئے حوصلے پیدا کر سکیں
تاکه نئے سنگ میل ترتیب دیے جاسکیں
جو اندھیروں میں روشنی کے جگنو بن کر بکھریں
اسی لیے اپنے خواب بیچ آیا هوں
میں بے دام هی اپنے خواب بیچ آیا هوں
Dedicated 2 Quaid e Azam M. Ali Jinnah

Rate it:
Views: 703
11 Aug, 2015