اچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیا

Poet: Munawwar RanaBy: badar, khi

اچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیا
تیری کلائی سے یہ کڑا بھی اتر گیا

وہ مطمئن بہت ہے مرا ساتھ چھوڑ کر
میں بھی ہوں خوش کہ قرض مرا بھی اتر گیا

رخصت کا وقت ہے یوں ہی چہرہ کھلا رہے
میں ٹوٹ جاؤں گا جو ذرا بھی اتر گیا

بیکس کی آرزو میں پریشاں ہے زندگی
اب تو فصیل جاں سے دیا بھی اتر گیا

رو دھو کے وہ بھی ہو گیا خاموش ایک روز
دو چار دن میں رنگ حنا بھی اتر گیا

پانی میں وہ کشش ہے کہ اللہ کی پناہ
رسی کا ہاتھ تھامے گھڑا بھی اتر گیا

وہ مفلسی کے دن بھی گزارے ہیں میں نے جب
چولھے سے خالی ہاتھ توا بھی اتر گیا

سچ بولنے میں نشہ کئی بوتلوں کا تھا
بس یہ ہوا کہ میرا گلا بھی اتر گیا

پہلے بھی بے لباس تھے اتنے مگر نہ تھے
اب جسم سے لباس حیا بھی اتر گیا

Rate it:
Views: 1160
22 Jan, 2019