جہاد

Poet: علامہ اقبالBy: Sohaim, Peshawar

فتوي ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے
دنيا ميں اب رہي نہيں تلوار کارگر

ليکن جناب شيخ کو معلوم کيا نہيں؟
مسجد ميں اب يہ وعظ ہے بے سود و بے اثر

تيغ و تفنگ دست مسلماں ميں ہے کہاں
ہو بھي، تو دل ہيں موت کي لذت سے بے خبر

کافر کي موت سے بھي لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کي موت مر

تعليم اس کو چاہيے ترک جہاد کي
دنيا کو جس کے پنجہ خونيں سے ہو خطر

باطل کي فال و فر کي حفاظت کے واسطے
يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہيں شيخ کليسا نواز سے
مشرق ميں جنگ شر ہے تو مغرب ميں بھي ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات
اسلام کا محاسبہ، يورپ سے درگزر!

Rate it:
Views: 610
13 Aug, 2021