کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

Poet: تہذیب حافیBy: Rana, Lahore

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے
تیرے جانے کا غم کیا گیا ہے

تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے
ان درختوں پہ دم کیا گیا ہے

اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے
کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے

کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ
اس جبیں پر رقم کیا گیا ہے

پانیوں کو بھی خواب آنے لگے
اشک دریا میں ضم کیا گیا ہے

ان کی آنکھوں کا تذکرہ کر کے
میری آنکھوں کو نم کیا گیا ہے

دھول میں اٹ گئے ہیں سارے غزال
اتنی شدت سے رم کیا گیا ہے

Rate it:
Views: 1728
30 Mar, 2021