مری آنکھ سے ترا غم چھلک تو نہیں گیا

Poet: تہذیب حافیBy: ہارون فضیل, Quetta

مری آنکھ سے ترا غم چھلک تو نہیں گیا
تجھے ڈھونڈھ کر کہیں میں بھٹک تو نہیں گیا

تری بدعا کا اثر ہوا بھی تو فائدہ
مرے ماند پڑنے سے تُو چمک تو نہیں گیا

بڑا پُر فریب ہے شہد و شِیر کا ذائقہ
مگر ان لبوں سے ترا نمک تو نہیں گیا

ترے جسم سے مری گفتگو رہی رات بھر
میں کہیں نشے میں زیادہ بَک تو نہیں گیا

یہ جو اتنے پیار سے دیکھتا ہے تُو آج کل
مرے دوست تُو کہیں مجھ سے تھک تو نہیں گیا

Rate it:
Views: 2399
13 Jan, 2022