توُ بار بار پھسلتے ہو

Poet: purkiBy: m.hassan, karachi

الیکشن کا پرانا چھلکا ہے زرا دیکھ کے پھسلنا
جوانی میں بہت پِھسلا ہے پِیری میں کیا پھسلنا

معلوم نہیں تیرا توُ بار بار پھسلتے ہو
اب کی بار خدارا زرا دیکھ کے پِھسلنا

بریانی کی دیگ پر بہت جی میرا للچاتا ہے
کمبخت یہ میرا پیٹ ایک پلیٹ بریانی پہ پھسلتا ہے

میرے وؤٹ سےمیرا مستقبل کیا ہوگا روشن پُرکی
جہاں بھوکوں کا قافلہ ہو اور صدیوں سے اندھیرا ہو

بھوک اورجہالت میں لوگ پھسل جاتے ہیں زیادہ
جہاں صدیوں کا اندھیرا ہواورغربت کا راج ہو

ایکسویں صدی میں بھی یہاں تعصّب کا راج ہے
انسانوں کی تقسیم ہی اس ملک کا اہم مسئلہ ہے

وَعتَصِمُو بحبل للہ جمیعاّ وّلا تفرّقو پر عمل کرتے تو شاید
یہ پیارا وطن چور لیڈروں سے نجات پا چکے ہوتے اب تک

 

Rate it:
Views: 220
02 Feb, 2013