بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا

Poet: Tahzeeb HafiBy: Nisar, khi

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا
ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا

محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہے
تو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا

وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں
وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا

میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں
وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں کرتا

مجھے تو جان سے بڑھ کر عزیز ہو گیا ہے
تو میرے ساتھ کوئی ہاتھ کیوں نہیں کرتا

Rate it:
Views: 3337
16 Nov, 2016