اے قائد ہم شرمندہ ہیں

Poet: ehiya hashmiBy: arshiya hashmi, islamabad

اے قائد ہم شرمندہ ہیں
تیرے پاکستان کے حال پہ ہم شرمندہ ہیں
جب تو نے اسکو بنایا تھا
اسلام کے پرچم کے نیچے سب ایک ہوئے تھے
اک مقصد تھ
اک مسلم ملک بنایا تھ

اب پاک کا حال بےحال ہو
اسلامی آئین پاک کا اب بے حال ہئوا
جب تو نے پاک بنایا تھا
ہندوکے شر سے اپنو ں کو بچایا تھا
قربانی تھی
اک جوش تھا جس میں غیرت تھی  
حرمت تھی
اسلام کا غلبہ مقصد تھا
اے قائد
اج تو تخت ہے یا کرسی ہے
عورت ذات بھی سڑکوں پر ہے
نامِ حیا مانوس نہیں ہے  
ضد ہے بدلہ ہےجھگڑا ہے
پاکستان کی فکر نہیں ہے
کوئی یہاں اب ایک نہیں ہے
داؤ پر اب اپنے وطن کی  
شان لگی ہے  
مسلم اپنے بھائی سے اب لڑنے لگا ہے
اپنا ہی اپنے کی سولی چڑھنے لگا ہے
اے قائدپم شرمندہ ہیں   
اب کیسے نعرے لگنے لگے
اے قائدتیرے پاک وطن کو
پھر سے نیا بنانے کے
افسوس   
کہ اب
تیرے پاک کا ایسا حال ہوا ہے
سالگرہ پر ایسا تحفہ
دیکھا تھا نہ دیکھا ہے
اس پرچم کے سا

Rate it:
Views: 328
04 Oct, 2014