کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے

Poet: ندا فاضلیBy: Zaid, Karachi

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کو سمجھایا ہے

ہم سے پوچھو عزت والوں کی عزت کا حال کبھی
ہم نے بھی اک شہر میں رہ کر تھوڑا نام کمایا ہے

اس کو بھولے برسوں گزرے لیکن آج نہ جانے کیوں
آنگن میں ہنستے بچوں کو بے کارن دھمکایا ہے

اس بستی سے چھٹ کر یوں تو ہر چہرہ کو یاد کیا
جس سے تھوڑی سی ان بن تھی وہ اکثر یاد آیا ہے

کوئی ملا تو ہاتھ ملایا کہیں گئے تو باتیں کیں
گھر سے باہر جب بھی نکلے دن بھر بوجھ اٹھایا ہے

Rate it:
Views: 618
21 Jun, 2021