آج حمد خدا ہی کرنے چلو
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab -Pakistan)آج حمد خدا ہی کرنے چلو
جھولیاں رحمتوں سے بھرنے چلو
چھوڑ کر دیر سوئے کعبہ چلو
کام ایسا عظیم کرنے چلو
تم بھلا بیٹھے اپنے خالق کو
اب یہ الزام سر پہ دھرنے چلو
اٹھو رندو حرم میں سجدے کریں
آؤ بگڑے ہوؤ سنورنے چلو
دل کا کھلنا حرم سے وابستہ
آؤ غنچو کھلو نکھرنے چلو
طائر سدرہ تک شکار کرو
حسن خالق سے آنکھ بھرنے چلو
سرمد و منصور کی کہانی میں
عشق کا رنگ پھر سے بھرنے چلو
ٹھوکروں میں رکھو فراعنہ کو
صرف خالق سے اپنے ڈرنے چلو
پسر نمرود جس جگہ دیکھو
اس کی گردن پہ پاؤں دھرنے چلو
جو بھی شداد کی کرے تقلید
اس کی ہیبت کے پر کترنے چلو
دفن کر کے ہلاکو آسو کو
رحمت رب کے بل ابھرنے چلو
شکر خالق کی نعمتوں کا کرو
مدح رازق کی آؤ کرنے چلو
اس کے انعام کتنے لا محدود
حد ادراک سے گزرنے چلو
رب زدنی علما کا ورد کرتے ہوئے
افق علم تاباں کرنے چلو
رب شرح لی صدری سدا ہو ورد زباں
طور کے جلوے دل میں بھرنے چلو
وہ خدائے عظیم و برتر ہے
اس کی عظمت کے جام بھرنے چلو
گردشوں میں جہاں ہے ہر لمحہ
اس کی رحمت سے کچھ ٹھہرنے چلو
ہر اولی الامر کو کرو تنبیہ
اپنی فرد عمل سے ڈرنے چلو
جن کو تھا زعم اپنی ہیبت کا
ان کی نکبت کا جلوہ کرنے چلو
ملخ و مور کھا گئے سب کو
دارا و جم کا زکر کرنے چلو
ہنستے بستے چمن ہوئے خاموش
کیسا سیل زماں ہے ڈرنے چلو
پڑھ کے تکبیر اپنے خالق کی
منہدم مشرکوں کو کرنے چلو
آؤ سجدے میں سر رکھو شبیر
دل کو غار حرا ہی کرنے چلو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






