آج کا دور
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam ShabbiR Rana, Jhang City (Punjab -Pakistan)آج کا دور
کربلا آج بھی درپیش ہے مظلوموں کو
شقاوت آمیز ناانصافیا ں دیکھ کلیجہ منہ کو آتا ہے
صعوبتوں کے سفر میں کاروان حسین نظر آتا ہے
اس اندھیر نگری میں اور اس بھیانک جنگل میں آج بھی
جنگل کا قانون نافذ کر کے شمر اور یزید
اپنی اندھی طاقت پر اتراتے ہیں
اہل درد ایسے میں گھبراتے ہیں
کس کے آگے جا کے پیش کریں فریاد
دیدہء گریاں اورآہ و فغاں بے اثر کر دی گئی ہے
مدعی اور منصف بن بیٹھا ہے صیاد
بڑھنے لگی ہے حد سے اب تو یہ بیداد
دانہ پانی بند کیا ہے ظالم شامیوں نے
بے رحم اور شقی ہے ابن زیاد
حریت ضمیر
یہ سوال آج بھی لمحہ فکریہ ہے کہ
میدان کربلا میں آل نبی پہ ظلم کیوں ڈھائے گئے
تشنہ لب شیر خواروں پر تیر کیوں برسائے گئے
ہے حریت ضمیر سے جینے کی ایک راہ
وہ اسوہء شبیر ہے ،نہیں اس سے کچھ سوا
آن رہ جائے ،جاں رہے نہ رہے
یہی درس حریت ہے یہی ہے درس کربلا
جبر کے سامنے سپر انداز ہونے سے بہتر ہے
کہ اپنی جان دے کر اعلائے کلمتہ الحق کی خاطر
سارا گھر راہ خدا میں قربان کر دیا جائے
حریت ضمیر سے جینا ہی کربلا کا درس ہے
تاریخ کا تسلسل
فرات تیری روانی اب تک جاری ہے
کربلا کوفہ بصرہ اور دمشق
اب تک آباد اور ہنستے بستے دکھائی دیتے ہیں
اہل درد ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں
اکسٹھ ہجری کا وہ سانحہ جب بھی یاد آتا ہے
سات محرم کا وہ دن تھا جب آل نبی پر بند ہوا تھا پانی
سوا نیزے پر سورج تھا اور پھول سارے کملانے لگے تھے
العطش العطش کی صدا خیام آل رسول سے آ رہی تھی
دریائے فرات پہ قابض شامی فوج کے شقی القلب سپاہی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






