التجا
Poet: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonمیرے اندرون سے یہ اپیل ہو رہی ہے
نعت وہ لکھو پیارے
شعر شعر میں جس کے
عجز کے عقیدت کے
خلوص کے محبت کے
خوش گوار رنگوں کی
خوب خوب آمیزی ہو
حرف حرف روشن ہو
لفظ لفظ مدحت میں
سرورِ دوعالم کی
سر تاسر ڈوبا ہو
سوچ سوچ ندرت ہو
لہجہ لہجہ امرت ہو
ورق ورق سطر سطر
عظمتِ شہ دیں کے
خیالات پاکیزہ سے
مسطور ہومعمور ہو
میرے اندرون سے یہ اپیل ہو رہی ہے
نعت وہ لکھو پیارے
شعر شعر میں جس کے
عجز کے عقیدت کے
خوش گوار رنگوں کی
خوب خوب آمیزی ہو
اس میں شک نہیں پیارے
مدحتِ شہِ کونین
انساں کے بس کی بات نہیں
لب کشا ہے تو جو یہ
فضل ہے اُنہی کایہ
بہرِ بیانِ عظمت ِرسول
اپنے خامۂ خام کو
فیضِ رضا سے جنبش دے کر
دل سے پھر تو ذکر کر
مصطفیٰ کی عظمت کا
مصطفیٰ کی رفعت کا
چاند کا ٹکڑے ہونا
سورج کا پلٹ آنا
کلمہ پڑھنا برملا
بے زبان کنکر کا
اَشجار کا سجدہ کرنا
چشمۂ پنجابِ رحمت
اُنگلیوں سے پھوٹ پڑنا
جانوروں کا بہرِ تعظیم
روبرو سر کو جھکانا
چوپایوں کا آکر کے
بارگاہ ِعالی میں
فریاد والتجا کرنا
اور غیب کی خبریں دینا
رب تعالیٰ کی عطا سے
نعمتیں تقسیم کرنا
مصطفیٰ کی قدرت ہے
مصطفیٰ کی طاقت ہے
پھول پھول نکہت ہے
آقا کے پسینے کی
بے مثال خوشبو سے
روح روح مسرّت ہے
آپ کے وسیلے سے
رنج رنج راحت ہے
آپ کی محبت سے
درد درد فرحت ہے
آپ کی عنایت سے
دُور دُور کلفت ہے
آپ کی عطاوں سے
قوسِ قزح کا سات رنگ
شفق شفق کی سُرخیاں
آپ ہی کے تلووں کی
رنگتوں کا صدقہ ہے
نجم نجم روشن ہیں
مہرو ماہ مجلا ہیں
روئے تابانِ آقا کے
صدقہ و وسیلہ سے
عرش کو بھی رفعت ہے
قدومِ نازِ مصطفیٰ کی
بے پناہ برکت سے
عرض ہے خدائے پاک
قلب قلب میرا بھی
زیست زیست میری بھی
نفس نفس ڈوبی رہے
مصطفیٰ کی الفت میں
مصطفیٰ کی چاہت میں
مصطفیٰ کی سیرت پر
روز وشب عمل کرتے
زندگی مکمل ہو
اس رضاؔ کے صدقے میں
جوہے عاشقِ صادق
جوہے عاشقِ صادق
یا حبیبی، یارسول
آپ سے ہے مُلتجی
بے نوا مشاہدؔ یہ
شہرِ محبت میں بلاکر
ارضِ مقدس میں بلاکر
مسافتیں فنا کرکے
تکمیلِ آرزو کیجے
اس تنِ ناتواں کو
خاک خاک کر دیجے
فخرِ جناں کی خاک میں
فخرِ جناں کی خاک میں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






