امت کو ملی ، بندہ ء سبحان کی خوشبو
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAوہ نورِ مبیں ﷺ لائے تھے قرآن کی خوشبو
امت کو ملی ، بندہ ء سبحان کی خوشبو
دنیا میں جو پھیلی ہے یہ فاران کی خوشبو
یہ خوشبو ہے اس ناطقِ قرآن کی خوشبو
پھر اسکی مہک حشر تلک رہتی ہے قائم
جس دل میں ٹھکانہ کرے قرآن کی خوشبو
جس گھر میں سجی دیکھی ہے سرکار کی محفل
پاتا ہوں وہاں سنبل و ریحان کی خوشبو
ابتک ہے معطر جو یہ اسلام کا گلشن
;صدیق و عمر حیدر و عثمان کی خوشبو
ہیں حشر تلک لاکھوں جہاں سائے میں اس کے
کیا رحمتِ عالم کے ہے دامان کی خوشبو
تھا دن کا اجالا بھی تو مشروط اُسی سے
ایسی تھی بلال آپ کے الحان کی خوشبو
اخلاص سے جس نے بھی پڑھا آپ کا کلمہ
پھر جاتی نہیں جسم سے ایمان کی خوشبو
ٹلتے ہیں عذاب آج بھی دنیا میں بہت سے
ملتی ہے عدو تک کو بھی فیضان کی خوشبو
یہ شان ہے مسلم کی کہ اللہ نے اس کو
ہر سال میں بخشی ہے جو رمضان کی خوشبو
سدرہ پہ کھڑے دیکھا کئے سارے ملائک
کس درجہ تلک جاتی ہے انسان کی خوشبو
اس در کی زیارت مجھے اللہ نے بخشی
پہنچی جو مدینے مرے ارمان کی خوشبو
مفتی کو ملا مِدحتِ سرکارﷺ سے سب کچھ
اللہ کا احسان ہے حسان کی خوشبو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






