Add Poetry

اگرچہ دُشوار تھا مگر زیر کر لِیا تھا

Poet: رشید حسرتؔ By: Rasheed, Quetta

اگرچہ دُشوار تھا مگر زیر کر لِیا تھا
انا کا رستہ سہل سمجھ کر جو سر لِیا تھا

وُہ کہکشاؤں کی حد سے آگے کہیں بسا ھے
طلب میں جِس کی زمِیں پہ بوسِیدہ گھر لِیا تھا

گُلوں کی چاہت میں ایک دِن کیا بِچھایا ھوگا
کہ ھم نے کانٹوں سے اپنا دامان بھر لِیا تھا

بڑھایا اُس نے جو گرم جوشی سے ھاتھ یارو
نہیں تھا مسلک اگرچِہ نذرانہ، پر لِیا تھا

اُسی کا بخشا ھؤا تھا سب کُچھ تو دیر کیسی؟
بس اِک اِشارے پہ کاسۂِ جان دھر لِیا تھا

دِلِ شِکستہ کی مُدّتوں تک خبر نہ آئی
کُھلا کہ مُٹھی میں تُو نے اے فِتنہ گر لِیا تھا

عدو نے چالوں سے چِت کِیا ھے رشِید حسرتؔ
وگرنہ ھم نے بھی اسپ تو نامور لِیا تھا۔

Rate it:
Views: 767
19 Jul, 2021
Related Tags on Urdu Ghazals Poetry
Load More Tags
More Urdu Ghazals Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets