اے حاجیوں مبارک ہو
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbaiاپنے تو کریم رب پر قرباں ہر کوئی ہو
یہ جاں اسی نے دی اس کی ہی بندگی ہو
بے بندگی زندگی تو شرمندگی ہے
بس بندگی سے یہ زندگی قیمتی ہو
لو آگیا ہے حج کا موسم بڑا سہانہ
ہر ایک کی زباں پر لبیک کا ترانہ
اے حاجیوں مبارک ہو حج کی یہ سعادت
محبوب کے تو در کی اب ہوگی ہی زیارت
اپنے کریم رب سے بندوں کی دو ہے نسبت
اک ہے نیاز مندی اک عشق اور محبت
اظہار عبدیت تو بالکل نماز میں ہے
اِظْہارِ عِشْق ہوتا بِالکُلِّیَہ ہی حج سے
ہر ایک سے تعلق بس توڑ کر ہے جانا
محبوب کی گلی اور کوچوں میں تو ہے پھرنا
اس رَنْگِ عاشقانہ کا احرام ہے ہی مظہر
کرتا نہ تو بدن پر ٹوپی نہ کوئی سر پر
صورت فقیر جیسی نہ خوشبو نہ ہی زینت
ہو بھی لباس ایسا گو مجنونانہ ہیئت
سر پر ہوں بال بکھرے ہو عاشقوں کی صورت
لب پر ہو جاری نعرہ مستانہ وار حالت
دل ہو بھی جیسے کھویا گو چوٹ سی لگی ہو
محبوب کے تو در پر کیا کچھ گزر رہی ہو
چکر بھی کاٹتا ہو محبوب کے تو گھر کا
دیوار و در کو اس کے بس چومتا ہے پھرتا
کعبہ شریف کے تو پردے سے ہے چِمَٹْنا
چہرہ بھی ملتزم کو اپنا تو ہے لگانا
پھر دوڑنا صفا اور مروہ کے بیچ میں ہی
انداز مجنونانہ کا پر کیف منظر ہے بھی
کیا خوب حج کا مظہر صحرا نوردی کا تو
مکہ میں صبح کی ہو اور شب منی میں ہی ہو
عَرْفات کے بیاباں میں صبح کو پھر آنا
اور شام ہوتے ہی تو مُزدَلفَہ میں پھر جانا
اور صبح کو منی میں پھر دوپہر کو مکہ
اور شام کو منی میں پھر لوٹ کر ہے آنا
اور کنکری منی میں شیطاں کو مارنا ہے
اس عشق کے سفر کا قربانی منتہی ہے
اپنی ہی نیتوں کو خالص ہی ہے بنانا
نام و نمود سے ہی خود کو تو ہے بچانا
لو آگیا ہے حج کا موسم بڑا سہانہ
ہر ایک کی زباں پر لبیک کا ترانہ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






