اے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
Poet: Mahmood ul Haq By: Mahmood ul Haq, Lahoreاے خدا تیری رحمتوں کے بندے طلبگار ہیں
شرمندہ ہیں اس لیے کہ ہم خطاکار ہیں
تجھے بھول جانے کے ہم جرم وار ہیں
دنیا کی محبت کے ہم سزا وار ہیں
خطاؤں کے لیے چاہتے تجھے مددگار ہیں
تجھے بھولنے کے بعد ہم تو غم خوار ہیں
دنیا کی چاہتیں اب ہمیں بیزار ہیں
شاہِ زمانہ کو ترستے ہم غمِ روزگار ہیں
تیرا در چھوٹنے سے ہم آہ و فگار ہیں
تیری نعمتوں کی ہو بارش ہم اشکبار ہیں
نہیں بھولیں گے ہم شجرِ آب دار ہیں
واسطہ تجھے محمد کا ہم امت جہاندار ہیں
سورج یہ چاند ستارے تیرے راز دار ہیں
رہیں خش و خاک میں تو ہم بیکار ہیں
تیری چاہتوں سے نہیں ہم انکار ہیں
اپنی خزاں زندگی کو امیدِ جشن بہار ہیں
اتنا دکھ جب ہوتے ہم بیروزگار ہیں
خوشی میں نہیں سوچتے کہ ہم پر انوار ہیں
عقلیں اَٹی ہماری گرد و غبار ہیں
قلب کھلے تو بھرے نورِ مینار ہیں
نہیں کٹتا نفس صرف روزہ دار ہیں
گر ہو مومن تو صوم کی تلوار ہیں
سُستی ایمان ڈھونڈتے ایک رات کا دربار ہیں
ارادوں پہ اپنے ہم بے اختیار ہیں
شکوے تجھ سے ہمیں بار بار ہیں
جڑے جانے کو کھڑے قطار در قطار ہیں
عنایات کو بانٹنے کے نہیں روا دار ہیں
دکھوں میں ڈھونڈتے ہم غم گسار ہیں
ہم خطا کاروں کے آپ پروردگار ہیں
دعاؤں میں تیری رحمتیں درکار ہیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو







