بارہویں تاریخ
Poet: Dr.Muhammed Husainb Mushaid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonدل و نظر کو لبھاتی ہے بارہویں تاریخ
خوشی کے گیت سناتی ہے بارہویں تاریخ
نشاط و کیف بڑھاتی ہے بارہویں تاریخ
جہاں میں دھوم مچاتی ہے بارہویں تاریخ
خوشی کے جام لُنڈھاتی ہے بارہویں تاریخ
ہمیں سُرور میں لاتی ہے بارہویں تاریخ
ہمارے دل کو جِلاتی ہے بارہویں تاریخ
عدو کے دل کو جَلاتی ہے بارہویں تاریخ
خزاں کو دور بھگاتی ہے بارہویں تاریخ
کرم کے پھول کھلاتی ہے بارہویں تاریخ
خوشی کے پھول اُگاتی ہے بارہویں تاریخ
چمن میں خوشبو بساتی ہے بارہویں تاریخ
گھروں سے اہلِ سنن کے طفیلِ شاہِ دنیٰ
نشانِ رنج مٹاتی ہے بارہویں تاریخ
ہر ایک درد و الم رنج و غم فنا کرتے
کچھ ایسی شان سے آتی ہے بارہویں تاریخ
اگر نہ ہوتے شہِ دیں تو کچھ نہیں ہوتا
نبی کا رُتبہ بتاتی ہے بارہویں تاریخ
ہزار عید سے بڑھ کو خوشی وِلادت کی
ہمیں تو خوب ہی بھاتی ہے بارہویں تاریخ
ہمیں نشاط و مسرت سے آشنا کرتی
عدو پہ برق گراتی ہے بارہویں تاریخ
زمیں پہ عیٖدِ ولادت کی فرحتوں کے سبب
بہارِ خلد بساتی ہے بارہویں تاریخ
سواے شیطاں کے ہر ایک کو خوشی دیتی
عدو کے دل کو جَلاتی ہے بارہویں تاریخ
تمام بے کسوں مظلوموں اور یتیموں کو
کرم کے جلوے دکھاتی ہے بارہویں تاریخ
ہو کیوں مُشاہدِؔ رضوی کو فکر و غم کوئی
کہ سویا بخت جگاتی ہے بارہویں تاریخ
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






