بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
Poet: اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن By: kanzul ilam, Lahoreبندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
لمعہ باطن میں گمنے جلوہ ظاہر گیا
تیری مرضی پا گیا سورج پھرا اُلٹے قدم
تیری اُنگلی اُٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا
بڑھ چلی تیری ضیاء اندھیر عالم سے گھٹا
کھل گیا گیسو تیرا رحمت کا بادل گھر گیا
بندھ گئی تیری ہوا سا وہ میں خاک اُڑنے لگی
بڑھ چلی تیری ضیاء آتش پہ پانی پھر گیا
تیری رحمت سے صفی اﷲ کو بیڑا پار تھا
تیرے صدقے سے نجی اﷲ کا بجرا تر گیا
تیری آمد تھی کہ بیت اﷲ مجرے کو جھکا
تیری ہیبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گیا
مومن ان کا کیا ہوا اﷲ اس کا ہو گیا
کافر ان سے کیا پھرا ﷲ اس سے پھر گیا
وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کی ہوئی
وہ کہ اس در سے پھرا اﷲ اس سے پھر گیا
مجھ کو دیوانہ بتاتے ہو میں وہ ہشیار ہوں
پاؤں جب طوف حرم میں تھک گئے سر پھر گیا
رحمتہ العالمین ! آفت میں ہوں کیسی کروں
میرے مولا میں تو اس دل سے بلا میں گھر گیا
میں ترے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گیا
کیوں جناب بوہریرہ کیسا تھا وہ جام شیر
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گیا
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے
یوں نہ فرمائیں تیرے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دھومیں مچیں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اُٹھے وہ طیب و طاہر گیا
اﷲ اﷲ یہ علو خاص عبدیت رضا
بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا
ٹھوکریں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضاؔ اوّل گیا آخر گیا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






